صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 239
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣٩ ١٠ - كتاب الأذان بلکہ تمام جہان کے لئے صبح و شام تمہاری طرف سے سلامتی کی دعا ہوتی رہے اور پیغام پہنچایا جایا کرے۔دائیں جانب بھی، بائیں جانب بھی۔بھلوں کو بھی اور بروں کو بھی ، کیا ہی مبارک تعلیم ہے اور کیا ہی مبارک وہ دین ہے جس کی عبادت کا خاتمہ اس قسم کی تسلیم پر ہو اور کیا ہی مبارک وہ ہادی اور رسول ہے جس کا نام رحمتہ للعالمین ہے۔یعنی ساری قوموں کے لئے رحمت - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ سَيّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک وَسَلَّم۔آیا مسلمانوں نے تسلیم کا مذکورہ بالا مفہوم اپنی اصل حقیقت میں سمجھا اور عملاً اس کو اپنایا تھا، یا یہ تھر محض شارح کی خوش فہمی ہے؟ یہ بات ان واقعات سے ظاہر ہے جس کا اقرار غیر مسلم انصاف پسند مصنفین نے بھی کھلے کھلے الفاظ میں کیا ہے صرف ایک دو حوالے کافی ہوں گے۔تا نمازی اپنے ذہن و دل میں اپنی نماز کی حقیقت پھر پیدا کریں اور اسے صحیح معنوں میں قائم کرنے والے ہوں۔ایک ہند و مصنف ایم۔این۔رائے اپنی مشہور کتاب Historical Role to Islam کے صفحہ ۲۰ پر لکھتے ہیں:- "The creed of Mohammad made peace at home, and the martial valour of the Saracans conferred the same blessing on the people inhabiting the vast territories from Samarcand to Spain" (The Historical Role of Islam, Chapter 2: The Mission of Islam, Page:20) یعنی عقیدہ اسلام نے اپنے وطن میں امن قائم کیا اور عربوں کی سپاہیانہ قابلیت نے سمرقند سے پین تک وسیع علاقوں میں آباد قوموں کو وہی امن کی برکت عطا کی جو عربوں کی قوم کو۔اور صفحہ 19 پر اسلام کا بایں الفاظ ذکر کیا ہے :- "۔۔۔to make peace with God by doing homage to His Oneness, repudiating the fraudulent divinity of idols which had usurped His sole claim to the devotion of man and to make peace on earth through the union of Arabian tribes۔The peace on earth was of immediate importance۔۔۔۔۔۔(The istorical Role of Islam, Chapter 2:The Mission of Islam, Page:19) یعنی اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ سے صلح، اس کی وحدانیت کے اقرار اس کی عبادت کے ذریعہ سے بتوں کی فریب دہ لمع ساز خدائی سے انکار کا ، جس نے انسان کی ساری عبودیت غصب کرلی تھی اور اسلام نام ہے زمین پر امن اور آشتی قائم کرنے کا بذریعہ اس اتحاد کے جوعربی قبائل میں پیدا کیا گیا۔کیونکہ زمین کا امن ایک فوری ضرورت تھی کہ اسے بحال کیا جاتا۔اور لکھتے ہیں کہ اسلامی جنگ جو محدود عرصہ تک کے لئے تھی وقت کی ضرورت حقہ تھی۔اپنی اس رائے کی تائید میں مشہور انگریز مؤرخ گین وغیرہ عیسائی مصنفین کے حوالے دیئے ہیں۔جن میں سے ایک قابل قدر حقیقت نما فقرہ یہ ہے:۔