صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 238
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۸ ١٠ - كتاب الأذان الزُّهْرِيُّ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ انہوں نے کہا: ) زہری نے ہمیں بتایا۔ہند بنت سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ حارث سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام حِيْنَ يَقْضِي تَسْلِيْمَهُ وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ پھیرتے تو عورتیں جو نہی آپ سلام پھیرتے کھڑی ہو أَنْ يَقُوْمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَرَى وَاللهُ جائیں اور آپ اٹھنے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہر جاتے۔أَعْلَمُ أَنَّ مُكْتَهُ لِكَيْ يَنْفُدَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ ابن شہاب نے کہا: میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ۔کو ہے کہ آپ کا یہ ٹھہرنا اس لئے تھا کہ عورتیں نکل جائیں۔پیشتر اس کے کہ جو لوگ نماز سے فارغ اطرافه: ٨٤٩، ٨٥٠ تشریح: ہو گئے ہوں ان کو پائیں۔التسليم: نماز کے اختتام پر دائیں اور بائیں طرف منہ کر کے نمازیوں کے لئے اور تمام جہان کے لئے سلامتی کی دعا ہر نماز فریضہ و غیر فریضہ میں کی جاتی ہے۔اس دعا کو تسلیم کہتے ہیں۔اردو میں اس کا ترجمہ سلام پھیر نا کیا جاتا ہے جو اصطلاحا تو ٹھیک ہے مگر اصل مفہوم واضح نہیں کرتا۔اس کے الفاظ یہ ہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ تم پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔اسلام سلامتی کا دین ہے جیسا کہ خود اس پر دلالت کرتا ہے۔جس ذات باری تعالی نے یہ دین نازل کیا ہے۔اس کا نام بھی السَّلامُ الْمُؤمِنُ الْمُهَمنُ ہے۔(الحشر : ۲۴) یعنی سلامتی اور امن دینے والا اور حفاظت کرنے والا۔جس رسول پر یہ دین نازل ہوا ہے۔اس رسول کا نام بھی امین ہے۔جو امن سے مشتق ہے۔اس دین کی مقدس کتاب کا نام بھی قرآن اور مُهيمن ہے۔دونوں لفظوں کے معنی ہیں بہترین تعلیموں کا مجموعہ اور ان کا محافظ اور اس کتاب کی غرض اور غایت یہ بتائی گئی ہے: يَهْدِى بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلامِ ( المائدہ: ۱۷) یعنی سلامتی کی راہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔اس شخص کی جواللہ تعالیٰ کی رضامندی کا خواہاں ہے۔وہ منزل مقصود جس کی طرف یہ دین دعوت دیتا ہے اس کا نام دَارُ السَّلام ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: وَاللَّهُ يَدْعُو إِلى دَارِ السَّلام (یونس :۲۶) { اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔} وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَام (یونس: 11) اور وہاں ایک دوسرے سے متعلق جذبات اور تمنائیں بھی سلامتی کی ہوں گی اور سلامتی کی روح غالب ہونے کی وجہ سے اسلام کے پیروؤں کا نام مسلم رکھا گیا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔هُوَ سَمُكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج: ٩ ) اور ان کے ہاتھ میں سلامتی کا ایک کامل دستور اعمل دے کر انہیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ لوگ اگر تمہارے دشمن ہوں تو ہوں تمہاری دشمنی اور دوستی اپنے نفس کی خاطر کبھی نہ ہو۔(کتاب الایمان باب ۷،۶ )