صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 238 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 238

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۸ ١٠ - كتاب الأذان الزُّهْرِيُّ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ انہوں نے) نے کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔ ہند بنت سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ حارث سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام حِيْنَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ پھیرتے تو عورتیں جو نہی آپ سلام پھیرتے کو کھڑی ہو أَنْ يَقُوْمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأُرَى وَاللَّهُ جاتیں اور آپ اٹھنے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ۔ أَعْلَمُ أَنَّ مُكْتَهُ لِكَيْ يَنْفُدَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ ابن شہاب نے کہا: میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے کہ آپ کا یہ ٹھہرنا اس لئے تھا کہ عور عورتیں نکل جائیں۔ پیشتر اس کے کہ جو لوگ نماز سے فارغ يُدْرِ كَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ۔ اطرافه: ٨٤٩، ٨٥٠ ہو گئے ہوں ان کو پائیں۔ تشریح : التسليم : نماز کے اختتام پر دائیں اور بائیں طرف منہ کر کے نمازیوں کے لئے اور تمام جہان کے لئے سلامتی کی دعا ہر نماز فریضہ و غیر فریضہ میں کی جاتی ہے۔ اس دعا کو تسلیم کہتے ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ سلام پھیرنا کیا جاتا ہے جو اصطلاحا تو ٹھیک ہے مگر اصل مفہوم واضح نہیں کرتا ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ تم پر سلامتی ہوا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ اسلام سلامتی کا دین ہے جیسا کہ خود اس پر دلالت کرتا ہے۔ جس ذات باری تعالی نے یہ دین نازل کیا ہے۔ اس کا نام بھی اَلسَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ ہے۔ (الحشر: ۲۴) یعنی سلامتی اور امن دینے والا اور حفاظت کرنے والا ۔ جس رسول پر یہ دین نازل ہوا ہے۔ اس رسول کا نام بھی امین ہے۔ جو امن سے مشتق ہے۔ اس دین کی مقدس کتاب کا نام بھی قُرآن اور مُهَيْمِنُ ہے۔ دونوں لفظوں کے معنی ہیں بہترین تعلیموں کا مجموعہ اور ان کا محافظ اور اس کتاب کی غرض اور غایت یہ بتائی گئی ہے: يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ ( المائدہ:۱۷) یعنی سلامتی کی راہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اس شخص کی جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا خواہاں ہے۔ وہ منزل مقصود جس کی طرف یہ دین دعوت دیتا ہے اس کا نام دار السلام ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ (یونس : ۲۶) { اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔} وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلام (یونس: 11) اور وہاں ایک دوسرے سے متعلق جذبات اور تمنائیں بھی سلامتی کی ہوں گی اور سلامتی کی روح غالب ہونے کی کی وجہ سے اسلام کے پیروؤں کا کا نام نام مسلم رکھا رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ هُوَ سَمْكُمُ الْمُسْلِمِينَ (الحج : ۷۹) اور ان کے ہاتھ میں سلامتی کا ایک کامل دستور العمل دے کر انہیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ لوگ اگر تمہارے دشمن ہوں تو ہوں تمہاری دشمنی اور دوستی اپنے نفس کی خاطر کبھی نہ ہو۔ (کتاب الایمان باب ۷۶ )