صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 240
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۰ ١٠ - كتاب الأذان "Since decayed states and degenerated religions bred the germs of continued wars and perennial revolts their destruction was a condition for peace' (The Historical Role of Islam, Chapter 2: The Mission of Islam, Page:19) یعنی چونکہ مضمحل اور زوال پذیر ریاستوں اور حاسد مذاہب نے مسلسل جنگوں اور دائمی بغاوتوں کے جراثیم کی پرورش کی ہوئی تھی۔اس لئے ان کی ہلاکت امن قائم کرنے کے لئے ایک شرط تھی۔مسلمانوں کی سلامت روی اور ان کے امن پرور سلوک ہی کی وجہ سے ہر ملک میں پامال جور و ظلم اقوام کی طرف سے بخوشی ان کا استقبال کیا گیا۔چنانچہ اس بارہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں۔"Everywhere the Saracen invaders were welcome as deliverers by peoples oppressed, tyrannised and tormented by Byzantine corruption۔Persian despotism and Christian superstition۔" (The Historical Role of Islam, Chapter 12:The Mission of Islam, Page:14) یعنی جہاں بھی غازیانِ عرب گئے انہیں بطور نجات دہندہ ان اقوام کی طرف سے خوش آمدید کہا گیا جو رومانی حکومت کے فساد اخلاق کی تختی مشق ایرانی مطلق العنانی سے پامال اور عیسائیت کے تو ہمات سے ستائی ہوئی تھیں۔گین نے اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اسی امر واقعہ کا اعتراف کیا ہے۔ملاحظہ ہو ان کی مشہور کتاب History of the Decline and the fall of the Roman Empire تطہیر و تزکیۂ نفس ہماری نماز کی اصل غرض ہے کہ اپنے معبود سبوح وقدوس کے ساتھ تعلق یگانگت پیدا ہو کر ہم اس کی ربوبیت سے مستفید اور اس کے صفاتِ حسنہ سے متصف ہو سکیں۔اسلامی نماز وضو سے شروع ہوتی ہے۔جو تظہیر و تزکیہ کی پہلی بنیاد ہے ( دیکھئے کتاب الوضوء تشریح باب ۲ و باب ۷۵) اس کے بعد ہر رکن نماز، قیام وقعود اور رکوع و سجود کا مدعا اور لب لباب یہی تزکیہ نفس اور تخلق باللہ ہے۔جس کا دوسرا نام عبودیت ہے۔حتی کہ کلمات تبیج سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلَى۔بھی دراصل دعائیہ ہیں جن سے ایک نمازی اپنے رب عظیم درب اعلی کو پکارتا ، اس کی سبوحیت اور عظیم الشان وعلو مرتبت ربوبیت کے وسیلہ سے دعا کرتا اور اپنے نفس کو مقصود حقیقی کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے۔ظاہر ہے کہ ایک عابدا اپنے قول سُبْحَانَ رَبّی الاعلیٰ میں کیونکر صادق ٹھہر سکتا ہے جبکہ وہ پاکیزہ اخلاق نہ ہو۔ایک عیب دار ناقص وجود تو کہتے شرماتا ہے کہ میری پرورش کرنے والا سبوح ہے۔بلکہ ایسا وجود تو ملائكة الله کے قول مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (البقره: ۳۱) کا مصداق ہوگا نہ کہ اپنے خالق سبوحیت وقد وسیت کا مصداق! وہی دعا مقبول ہوتی ہے جس کے ساتھ خشوع و خضوع ، ارادہ و عزم عمل صالح اور سعی پیہم ہو۔