صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 237
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۷ سوله ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٥١ : مَنْ لَمْ يَمْسَحْ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ حَتَّى صَلَّى جو اپنی پیشانی اور ناک نہ پونچھے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ رَأَيْتُ الْحُمَيْدِيُّ ابوعبدالله (امام بخاری) نے کہا کہ میں نے (عبداللہ يَحْتَجُ بِهَذَا الْحَدِيْثِ أَنْ لَّا يَمْسَحَ بن زبير) حمیدی کو دیکھا کہ وہ اس حدیث سے یہ الْجَبْهَةَ فِي الصَّلَاةِ۔دلیل لیتے تھے کہ نماز میں پیشانی نہ پونچھے۔٨٣٦ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ :۸۳۶: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے، سحي نے قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ ابو سلمہ بن عبدالرحمن ) سے روایت کی کہ انہوں نے ابوسلمہ ( رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری سے پوچھا تو فِي الْمَاءِ وَالطَّيْنِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّيْنِ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔یہاں تک کہ میں فِي جَبْهَتِهِ۔نے آپ کی پیشانی میں کیچڑ کا نشان بھی دیکھا۔اطرافه ٦٦٩، ۸۱۳، ۲۰۱٦، ۲۰۱۸، ۲۰۲۷ ، ٢٠٣٦، ٢٠٤٠۔تشریح: مَنْ لَّمْ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ وَانْفَهُ حَتَّى صَلَّى : عبداللہ بن زبیر حمیدی، امام شافعی کے شاگرد اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ہیں۔عنوان باب میں ان کا حوالہ نقل کر کے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ روایت نمبر ۸۳۶ سے مذکورہ بالا استدلال صرف ایک قیاس ہے۔ہوسکتا ہے کہ پیشانی سے کیچڑ پونچھا ہو اور اس کا اثر باقی رہ گیا ہو۔جیسا کہ راوی کا بیان ہے۔رَأَيْتُ أَثَرَ الدِّينِ یا یہ کہ آپ کو خیال نہ آیا ہو۔اس قسم کے احتمالات کی وجہ سے امام بخاری نے باب کا عنوان ”فن“ سے قائم کر کے یہ مسئلہ اجتہادی قرار دیا ہے اور پڑھنے والے کی مرضی پر اسے چھوڑا ہے۔بَاب ١٥٢ : التَّسْلِيمُ سلام پھیرنا (یعنی سلامتی کی مسنون دعا کرنا ) ۸۳۷: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۸۳۷ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ) کہا : ( ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔