صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 237 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 237

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۷ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٥١ : مَنْ لَمْ يَمْسَحْ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ حَتَّى صَلَّى جو اپنی پیشانی اور ناک نہ پونچھے یہاں تک کہ نماز پڑھ لے قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ رَأَيْتُ الْحُمَيْدِي ابوعبد الله (امام بخاری ) نے کہا کہ میں نے ( عبدالله يَحْتَجُ بِهَذَا الْحَدِيْثِ أَنْ لَّا يَمْسَحَ بن زبیر ) حمیدی کو دیکھا کہ وہ اس حدیث سے یہ الْجَبْهَةَ فِي الصَّلَاةِ۔ دلیل لیتے تھے کہ نماز میں پیشانی نہ پونچھے۔ ٨٣٦: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ۸۳۶: مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بچی سے، بچی نے قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِي فَقَالَ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ) سے روایت کی کہ انہوں نے رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری سے پوچھا تو فِي الْمَاءِ وَالطَّيْنِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطَّيْنِ انہوں نے کہا: میں نے رسول الله نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فِي جَبْهَتِهِ۔ پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا۔ یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی میں کیچڑ کا نشان بھی دیکھا۔ اطرافه ٦٦٩، ١، ۲۰۱٦، ۲۰۱۸، ۲۰۲۷، ٢٠٣٦، ٢٠٤٠۔ : تشريح : مَنْ لَّمْ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ وَانْفَهُ حَتَّى صَلَّی : عبداللہ بن زیر حمیدی: امام شافی کے شاگرد اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ہیں۔ عنوان باب میں ان کا حوالہ نقل کر کے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ روایت نمبر ۸۳۶ سے مذکورہ بالا استدلال صرف ایک قیاس ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پیشانی سے کیچڑ پونچھا ہوا اور اس کا اثر باقی رہ گیا ہو۔ جیسا کہ راوی کا بیان ہے ۔ رَأَيْتُ أَثَرَ الطينِ یا یہ کہ آپ کو خیال نہ آیا ہو۔ اس قسم کے احتمالات کی وجہ سے امام بخاری نے باب کا عنوان ”من“ سے قائم کر کے یہ مسئلہ اجتہادی قرار دیا ہے اور پڑھنے والے کی مرضی پر اسے چھوڑا ہے۔ بي بَاب ١٥٢ : التَّسْلِيمُ سلام پھیرنا (یعنی سلامتی کی مسنون دعا کرنا ) ۸۳۷ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۸۳۷ موسى بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا (کہا) ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔