صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 235
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۵ ١٠ - كتاب الأذان اسی نقل مکانی کی قدرت کے پیش نظر اس کو مسیح کا لقب دیا گیا ہے۔کیونکہ مسیح کے معنی ہیں بہت سیاحت کرنے والا۔(لسان العرب زیر لفظ مسح ) امام بخاری نے روایت کے آخر میں ایک حوالہ نقل کر کے مسیح اور مسیح کا اشتقاق معنوں کے لحاظ سے ایک ہی قرار دیا ہے۔پہلا لفظ حضرت عیسی علیہ السلام کا لقب ہے جس کے معنے مبارک کے بھی ہیں اور سیاحت کرنے والے کے بھی مگر لفظ مسیح دجال کے لئے مخصوص ہے۔یعنی بہت سیاحت کرنے والا اور مثانے والا۔(لسان العرب زیر لفظ مسح ) یہاں دجال بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔اس سے ایک فرد مراد نہیں بلکہ ایک قوم مراد ہے۔جیسا کہ لسان العرب نے اس کی وضاحت کی ہے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب ازالہ اوہام صفحہ ۲۵۶ تا۲۷۰- روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۵۶ تا ۳۷۰۔نیز دیکھئے کتاب الاذان تشریح باب ۹۰۔إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی : ظلم کے معنے ہیں کمی کرنا ، حد اعتدال سے نکلنا۔اپنی جان پر ظلم کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مواقع انسان کو دنیاوی اور دینی ترقیات حاصل کرنے کے میسر ہیں ان سے اپنے آپ کو محروم رکھنا۔نہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرے اور نہ بندوں کے ساتھ اور نہ اپنے نفس کو حقیقی سعادت سے متمتع ہونے دیا جائے۔مغفرت کی وضاحت کتاب الایمان باب ۲۵ کی تشریح میں گذر چکی ہے۔مغفرت کے بعد جب تک رحمت نہ ہو کوئی کامیابی حقیقی نہیں۔کیونکہ مغفرت کا مفہوم سلبی ہے یعنی گناہ کے اثر کا ازالہ اور یہ ایک منفی حیثیت رکھتی ہے۔مگر رحمت مثبت ہے جو بصورت انعامات نازل ہوتی ہے۔غفور : بہت مغفرت کرنے والا۔رحیم : بچی محنت کا بدلہ رحمت سے بار بار دینے والا۔مغفرت اور رحیمیت کی دونوں صفات پہلو بہ پہلو کام کرتی ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں یہ دونوں صفات اکٹھی رکھی گئی ہیں جس سے ظاہر ہے کہ مغفرت کے حصول کے لئے اعمال صالحہ کی ضرورت ہے جو جاذب رحیمیت ہیں۔رحمن کے معنے بلا عمل و محنت رحمت کے سامان بہم پہنچانے والا۔قرآن مجید میں غفور کے ساتھ صفت رحمن کا کہیں ذکر نہیں آیا۔حدیث نمبر ۸۳۴ میں جو دعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی ہے مذکورہ بالا معانی کے پیش نظر بوقت التحیات دہرائی جائے۔دعاؤں میں جب تک اصلی مفہوم مد نظر نہیں ہوگا وہ بلا مغز چھلکا ہوں گی جو روی سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔باب ١٥٠ ١٥٠ : مَا يُتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدَ التَّشَهُدِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ تشہد کے بعد جو دعا اختیا کی جائے اور وہ دعا واجب نہیں ٨٣٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۳۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: جی نے يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي شَقِيْقَ عَنْ ہمیں بتایا۔اعمش سے مروی ہے کہ مجھے شقیق نے