صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 234 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 234

صحيح البخاری جلد ۲ تشریح الامین معماری دعا ۲۳۴ ١٠ - كتاب الأذان الدُّعَاءُ قَبْلَ السَّلَامِ نماز کے اختتام پر سلام پھیرنے۔ نے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت سی کرتے تھے۔ ان میں مذکورہ بالا دعا بھی ہے۔ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے۔ اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ لیتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں اور موت اور زندگی کے فتنے سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں ۔ اے اللہ گناہ اور قرض سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں ۔ اَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبَرِ : عذاب قبر سے متعلق دیکھئے تشریح کتاب الصلوۃ باب ۴۸ روایت نمبر ۴۲۸ ۔ اور موت کے بعد بھی برے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اخروی زندگی میں سزا و جزا کے متعلق تفصیلی تفصیلی معلومات کے لیے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی - ” دوسرا سوال، صفحه ۸۲ تا ۹۹ - روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۶ تا ۴۱۳ اَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ : احادیث سے ظاہر ہے کہ فتنہ دجال کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے اور یہ وہ آخری فتنہ ہے جو قیامت سے پہلے زمین پر بر پا ہونے والا تھا۔ قرآن مجید کی آخری دو سورتوں میں بھی اسی فتنہ کا ذکر ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر کبیر تفسیر سورۃ الفلق والناس جلد ۱۰) اَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَ فِتْنَةِ الْمَمَاتِ : موت اور زندگی کے فتنہ کا تعلق فتنہ دجال سے ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کے متعلق ذکر ہے کہ دجال کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی ۔ جو اس کو مانیں گے وہ جنت میں ہوں گے اور اس کو نہ ماننے والے دوزخ میں ۔ اس تعلق میں دیکھئے: بخاری ۔ کتاب الفتن ۔ باب ذکر الدجال ۔ روایت نمبر ۷۱۳۰) در حقیقت موت و زندگی کا فتنه اقتصادی بدحالی اور فقر وفاقہ کا فتنہ ہے اور چونکہ مذکورہ بالا دعا میں فتنہ محیا و مات کا ذکر فتنہ دجال کے بعد ہے اس لئے اس سے اس طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ دجال کا تعلق بلحاظ عقیدہ عیسائی مذہب سے ہے، جس کی بنیاد کفارہ پر ہے۔ عیسائی یقین رکھتے ہیں کہ مسیح ان کے گناہوں کی خاطر صلیب پر مرا اور پھر زندہ ہوا۔ قرآن مجید میں مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۔ کہہ کر جس شر سے پناہ مانگنے کا ارشاد ہوا ہے وہ یہی فتنہ دجال ہے۔ چونکہ دجالی فتنہ سے مسلمانوں کے لئے خاص طور پر اور تمام قوموں کے لئے عام طور پر زندگی اور موت کا شدید خطرہ پیدا ہونے والا تھا۔ اس لئے دجال کے فتنے کے تعلق میں فِتْنَةُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ سے پناہ مانگنے کی دعا کے ساتھ ہی فِتْنَةُ الْمَحْيَا اور فِتْنَةُ الْمَمَاتِ سے پناہ مانگنے کی دعا ہمیں سکھائی گئی ہے۔ یہ کتنا بڑا احسان ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امت پر ۔ چنانچہ آج وہ فتنہ اپنے زوروں پر ہے۔ اس دعا سے جس کی تائید واقعات کر رہے ہیں، یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی تعلیم کردہ دعا ئیں در حقیقت وحی الہی کی خاص تجلیات کے تحت تھیں ۔ دجال کے معنے ہیں جھوٹا ، دھوکا دینے والا ، بات کو بظاہر خوبصورت کر کے دکھانے والا ملمع ساز اسی طرح دجال کے یہ معنی بھی ہیں : الرَّفْقَةُ الْعَظِيمَةُ تُغَطَّى الْأَرْضَ بِأَهْلِهَا ۔ تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتِّجَارَةِ (لسان العرب۔ تحت لفظ دجل) یعنی ایک بہت بڑی تجارتی کمپنی یا جماعت جو زمین پر اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ چھا جائے گی۔ جگہ جگہ تجارت کا سامان اٹھائے پھرے گی۔