صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 9 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 9

جلد ۲ ۹ ١٠ - كتاب الأذان فَارْفَعُ صَوْتَكَ بِالنِدَاءِ : مسلمان کا ایک بڑا اور اہم فرض تبلیغ بھی ہے۔اگر وہ لق و دق بیابان میں بھی ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے ہادی و مرشد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو بلند آواز سے چاروں طرف پہنچائے۔خواہ کوئی سننے والا ہو یا نہ ہو۔صحراء کے درختوں اور ریگستانوں کے ذروں کو ہی مخاطب کرے اور اس فرض پر ان کو گواہ ٹھہرائے۔اس تاکیدی حکم میں کوتاہی یا غفلت سے کام لینا اسی طرح قابل مواخذہ ہے۔جس طرح دوسرے احکام شریعت میں اور جو اذان کے بارے میں مداخلت کرتے ہیں، وہ در حقیقت مسلمانوں کے ایسے مذہبی امر میں مداخلت بے جا کرتے ہیں جو اسلام میں فرض اولین کی حیثیت رکھتا ہے۔اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بخاری کی روایت نمبر ۶۰۹ میں یہ الفاظ پڑھائے گئے ہیں: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَّسُولِ اللهِ ﷺ یعنی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔جو میں نے آپ سے سنا۔میرا اپنا اجتہاد نہیں جونظر انداز کر دیا جائے۔اگر کوئی مسلمان کسی ایسی قوم میں رہتا ہو جو اذان کے معنی سے بے خبر ہے اور وہ مناسب موقع پر اس قوم کے افراد کو ان معنی سے آگاہ نہیں کرتا تو وہ بھی درحقیقت اپنے فرض منصبی سے غافل اور قابل مواخذہ ہے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے گردو پیش کے لوگوں کو کلمات اذان کے مفہوم سے اچھی طرح واقف کرے۔اذان کی وجہ سے بعض وقت ہمسایہ قوموں کی طرف سے جو ہنگامہ آرائیاں ہو جاتی ہیں، اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے معنی سے بے خبر ہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ کا نام سن کر اہل مذاہب میں سے کون ایسا بے وقوف ہوگا جو برافروختہ ہو۔باب ٦ : مَا يُحْقَنُ بِالْأَذَانِ مِنَ الدِّمَاءِ اذان کے ذریعے سے جو خون بچائے جاتے ہیں ٦١٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَالَ :۲۱۰: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ اسماعيل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله حمید نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں ساتھ لے کر کسی قوم پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَرَا بِنَا قَوْمًا لَّمْ چڑھائی کرتے تو آپ تا وقتیکہ صبح نہ ہو جائے ، ہمیں يَكُنْ يَغْرُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ فَإِنْ حمل کا حکم نہ دیتے اور انتظار فرماتے۔اگر آپ اذان سَمِعَ أَذَابًا كَفَّ عَنْهُمْ وَإِنْ لَّمْ يَسْمَعْ سنتے تو ان سے رُک جاتے۔اگر اذان نہ سنتے تو ان پر أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى حملہ کر دیتے۔حضرت انس کہتے تھے ہم خیبر کی خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا فَلَمَّا أَصْبَحَ طرف نکلے تو ہم ان کے پاس رات کو پہنچے۔جب