صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 10
ری جلد ۲ |• ١٠ - كتاب الأذان وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانَّا رَكِبَ وَرَكِبْتُ آپ صبح کو اُٹھے اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ اور میں حضرت ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہو گیا اور میرا پاؤں قَدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے چھوتا تھا۔کہتے فَخَرَجُوْا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيْهِمْ تھے: وہ باہر نکلے۔اپنی ٹوکریاں اور کرالیں لئے ہوئے ہماری طرف چلے آ رہے تھے۔جب انہوں فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے کہا: قَالُوْا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيْسُ مُحمد ہیں۔اللہ کی قسم محمد اور فوج۔(حضرت انسٹ) کہتے قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ تو آپ نے اللهُ اكْبَرُ اللهُ اکبر کیا اور فرمایا: خیر خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ برباد ہو گیا۔جب ہم کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ لگاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بہت بُری ہوتی ہے فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ۔(الصافات: ۱۷۸) جو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیئے گئے ہوں۔اطرافه ۳۷۱، ۹٤۷، ۲۲۲۸، ۲۲۳۵ ، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢٩٤۳، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ٢٩٩١، ،٤۱۹۹ ۱۹۸ ،٤۱۹۷ ،٤٠، ٤٠٨٤۸۳ ، ۳٣٠٨٥، ٣٠٨٦ ٣٣٦٧ ،٦٤٧ ۵۳۸۷ ،۵۱۶۹ ،۵۱۵۹ ،۵۰۸۵ ،۶۲۱۳ ،۱۲۱۲ ،٤۲۱۱ ،٤۲۰۱ ،٤۲۰۰ ٥٤٢٥، ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ٠٦١٨٥، ٦٣٦٣ تشریح: فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمُ : روایت نمبر ۶۱۰ سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ سے نہایت گہر اعشق تھا۔دعویٰ نبوت سے پہلے قریش میں یہی چرچا تھا کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّهُ محمد اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔اسی عشق نے آپ کو نعرہ تکبیر بلند کرنے پر مجبور کر دیا تھا اور تادم واپسیں اللہ تعالیٰ کے عشق نے آپ کو بے قرار رکھا اور آپ کی یہی خواہش رہی کہ تمام لوگ اسی عشق میں آپ کے شریک ہوں اور ان کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا گھر نہ کرے۔بوقت وفات آپ اس خیال سے سخت گھبراہٹ میں تھے کہ کہیں مسلمان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر آپ کی قبر پوجنا شروع نہ کر دیں۔(کتاب الجنائز - روایت نمبر ۱۳۹۰،۱۳۳۰) یہ عشق الہی کا وہ جذبہ ہے کہ جس کی مثال ہمیں کسی نبی کی تاریخ زندگی میں نہیں ملتی۔اذان کو سن کر آپ دشمن پر حملہ کرنے سے رک جاتے ہیں۔کیونکہ اذان کے کلمات اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کے جذبات کو ابھارنے والے ہیں اور ایک وقت میں دو قسم کے متضاد جذبات جمع نہیں ہو سکتے۔اگر چہ بمصداق آیت اِن صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔(الأنعام: ۱۶۳) ( میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔آپ کا لڑنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے تھا۔مگر اس کی محبت اور اس کے نام کی عزت کا یہی تقاضا تھا