صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 10 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 10

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۰ ١٠ - كتاب الأذان وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانَا رَكِبَ وَرَكِبْتُ آپ صبح کو اُٹھے تھے اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ اور میں حضرت ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہو گیا اور میرا پاؤں قَدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے چھوتا تھا۔ کہتے فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيْهِمْ تھے: وہ باہر نکلے۔ اپنی ٹوکریاں اور کدائیں لئے ہوئے ہماری طرف چلے آ رہے تھے۔ جب انہوں فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيْسُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے کہا: محمد ہیں۔ اللہ کی قسم محمد اور فوج۔ (حضرت انس ) کہتے کو دیکھا قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو د عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ تو آپ نے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَر کہا اور فرمایا: خیر خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے آنگن میں ڈیرہ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ۔ لگاتے ہیں تو پھر ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے (الصافات: ۱۷۸) جو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دیئے گئے ہوں ۔ اطرافه: ۳۷۱، ۹۷۷، ۲۲۲۸، ۲۲۳۵، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ۲۹۷۳ ، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ٢٩٩١، ،٤ ، ١٩٨، ٤١٩٩۱۹۷ ، ٣٦٤٧، ٤٠٨، ٤٠٨٤ ،۳۳۶۷ ،۳۰٣٠٨٥، ٨٦ ،٥١٦، ٥٣٨٧۹ ،۵۱۵۹ ،٤، ٤٢٠١، ٤٢١١، ٤٢١٢ ، ٤٢١٣، ٥٠٨٥۲۰۰ ۔٥٤٢٥، ٥٥٢٨، ٥٩٦٨، ٦١٨٥، ٦٣٦٣ روایت نمبر ۶۱۰ سے ثابت ہوتا ۔ ت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشريح : فَإِنْ سَمِعَ أَذَانَا كَفَّ عَنْهُمْ: روایت نمر 1 کو اللہ تعالیٰ سے نہایت گہرا عشق تھا۔ دعوی نبوت سے پہلے قریش میں یہی چرچا تھا کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّهُ۔ محمد اپنے رب کا عاشق ہو گیا ہے۔ اسی عشق نے آپ کو نعرہ تکبیر : رہ تکبیر بلند کرنے پر مجبور کر دیا تھا اور تادم واپسیں اللہ تعالیٰ کے عشق نے آپ کو بے قرار رکھا اور آپ کی یہی خواہش رہی کہ تمام لوگ اسی عشق میں آپ کے شریک ہوں اور ان کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا گھر نہ کرے۔ بوقت وفات آپ اسی خیال سے سخت گھبراہٹ میں تھے کہ کہیں مسلمان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر آپ کی قبر پوجنا شروع نہ کر دیں۔ (کتاب الجنائز - روایت نمبر ۱۳۹۰،۱۳۳۰) یہ عشق الہی کا وہ جذبہ ہے کہ جس کی مثال ہمیں کسی نبی کی تاریخ زندگی میں نہیں ملتی۔ اذان کو سن کر آپ دشمن پر حملہ کرنے سے رک جاتے ہیں ۔ کیونکہ اذان کے کلمات اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کے جذبات کو ابھارنے والے ہیں اور ایک وقت میں دو قسم کے متضاد جذبات جمع نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ بمصداق آیت اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الأنعام: ۱۶۳) { میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ آپ کا لڑنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے تھا۔ مگر اس کی محبت اور اس کے نام کی عزت کا یہی تقاضا تھا