صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 8 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 8

جلد ۲ A ١٠ - كتاب الأذان فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ پس تم اپنی بکریوں یا اپنے جنگل میں ہو تو نماز کی اذان فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ دو اور اپنی آواز اذان کے ساتھ بلند کیا کرو۔کیونکہ بِالتِدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ جہاں تک مؤذن کی آواز پہنچے، جن و انسان اور جو کوئی الْمُؤَذِنِ جِنَّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا بھی اسے سنے گا تو وہ ضرور اس کے لئے قیامت کے شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: روز شہادت دے گا۔حضرت ابوسعید نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔سَمِعْتُهُ مِنْ رَّسُولِ اللهِ۔اطرافه : ٣٢٩٦، ٧٥٤٨۔تشریح: رَفَعُ الصَّوْتِ بِالنِّدَاءِ : تبلیغی اہمیت کی وجہ ہی سے آواز دُور تک پہنچانے کا حکم ہے۔مدینہ میں جبکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز امیر تھے تو ایک مؤذن ترنم سے اذان دے رہا تھا تو انہوں نے اسے منع کیا۔کیونکہ گانے میں آواز دھیمی ہو جاتی ہے اور خشوع کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۱۶) شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اسلام نے کائنات عالم کے ذرہ ذرہ میں زندگی اور اس کے خصائص مثل فعل اور رو فعل اور احساس و ادراک و غیرہ کا وجود تسلیم کیا ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَإِن مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ۔(سورة بنی اسرائیل : ۴۵) ہری اللہ تعالیٰ کی حمد میں سراپا ناز ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے بکشتی نوح - روحانی خزائن جلد 9 صفہ ۳۲) اس لئے کائنات عالم میں جس جس قسم کے مظاہر حیات پائے جاتے ہیں اور جو جو کیفیات ہر مخلوق کے احساس و ادراک کی ہیں ؟ ہر ایک کی شہادت کی نوعیت بھی انہی کے مطابق ہوگی۔ہم اگر چہ مخلوقات کی زبان نہیں سمجھ سکتے۔لیکن ہر مخلوق کی تسبیح سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہو کر اپنے رنگ میں شہادت دیتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہے اور عقل باور نہیں کر سکتی کہ دوسری چیزیں ہماری تسبیح سے اپنے رنگ میں متاثر ہو کر اپنی طبیعت کے مطابق شہادت نہ دیتی ہوں۔کیونکہ تمام مخلوقات فعل اور رد فعل کی کڑیوں میں ایک دوسرے سے جکڑی ہوئی ہیں۔علم النباتات نے ثابت کر دیا ہے کہ پودے انسان کے لمس بلکہ اس کی آواز سے بھی متاثر ہوتے ہیں اور کائنات کی طبعی شہادت کے لئے کسی ظاہری نطق و استنطاق کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ تو علیم ہے، وہ ان تاثرات کو خوب جانتا ہے جو ہماری تسبیح فضائے عالم میں پیدا کرتی ہے اور قیامت کے روز یہ تاثرات اسی طرح عالم وجود میں متمثل ہوں گے جس طرح ہمارے ہاتھ پاؤں کی شہادتیں۔یعنی ہمارے اعمال۔( مزید تشریح کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی، پہلا دقیقہ معرفت روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰ تا ۴۰۸) جن سے مراد وہ مخلوقات ہیں جو انسان کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔جنگل کے درندوں اور حشرات الارض سانپ وغیرہ کو بھی جن کہتے ہیں۔لفظ جن کے معنی پوشیدہ کے ہیں۔(لسان العرب تحت لفظ جنن )