صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 231
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۱ ١٠ - كتاب الأذان سن کر صحابہ کو اس سے روک دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تو خود سراسر سلامتی ہے۔وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کا محتاج نہیں۔چنانچہ صحابہ کرام نے پھر کبھی یہ دعا نہیں کی۔شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ دعا اور اس کا طریق اپنے متبعین کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور روح القدس کی خاص تجلی سے خود سکھایا ہے تا وہ کوئی غلط راہ اختیار نہ کر لیں۔چنانچہ مذکورہ بالا دعا التَّحِيَّات بھی ایک نمونہ ہے، آپ کی دعاؤں کا۔التَّحِيَّاتُ جمع ہے التَّحِيَّةُ کی۔تَحِيَّةٌ وہ کلمات تعظیم ہیں جن کے ساتھ بادشاہوں کو مخاطب کیا جاتا تھا اور اس تحية میں نہ صرف حمد وثناء کے القاب وخطابات ہی ہوتے تھے، بلکہ بادشاہوں کی سلامتی اور وقار کی دعائیں بھی شامل ہوتی تھیں۔جس کی وجہ سے تحیۃ کا لفظ جو کہ حیات سے مشتق ہے اختیار کیا گیا ہے۔التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ کے یہ معنی ہیں کہ تمام کے تمام وہ القاب تعظیم اور کلمات ثناء وحد اور دعائیں جن کے ساتھ دنیا کے بادشاہ و معبود مخاطب کئے جاتے ہیں؟ صرف اللہ ہی ان کا حق دار ہے۔یعنی وہ عبادتیں جن کا تعلق زبان سے ہے۔اللہ تعالیٰ کے لئے ہی مخصوص ہیں۔اس اقرار کے بعد ایک سچا عابد اپنے لئے کسمی لقب کا بھی متمنی نہیں ہوتا اور اسی مفہوم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام الہاما مخاطب کئے گئے ہیں: قُلْ هَذَا فَضْلُ رَبِّي وَإِلَى أَجَرِّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَابِ۔( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۳۷۳، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۷۳) یعنی کہ دو کہ یہ میرے رب کا فضل ہے اور میں اپنے نفس کو ہر قسم کے القاب سے الگ رکھتا ہوں“ مگر آج علماء کا نفس راضی نہیں ہوتا جب تک مولانا وغیرہ کے القاب سے مخاطب نہ کئے جائیں۔التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ کے بعد یہ الفاظ ہیں: وَالصَّلَوَاتُ یعنی تمام قسم کی نمازیں بھی اللہ ہی کے لئے ہیں۔اَلصَّلوة سے مراد وہ عبادت ہے جس کا تعلق بدن کے تمام اعضاء اور ان کی اطاعت کے ساتھ ہے۔وَالطَّيِّبات یعنی تمام مالی عبادتیں جو طیب یعنی ہر قسم کے مشرکانہ خیالات اور حرام اور ناجائز کمائی سے پاک اور خالص کسب حلال کا نتیجہ ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ال ( الف لام) استغراق کا ہے جس کی وجہ سے اردو ترجمہ میں تمام کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔یہ تشہد یعنی اقرار عبودیت مسلمان کی تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے۔جو وہ بیٹھ کر اطمینانِ قلب اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بار بار کرتا ہے اور یہ عطر ہے اس عبودیت کا جس کا عہد وہ الفاظ ايَّاكَ نَعْبُدُ سے کھڑے ہو کر کرتا ہے۔اسی عبودیت کے نتیجے میں عابد کو تین چیزوں کے وارث ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے۔اول : سلامتی یعنی ہر بلاء وشر سے محفوظ رہنا۔دوم: رحمت الہی جو مختلف قسم کی نعمتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔سوم: برکت یعنی غیر معمولی ترقی۔اس وعدے کے پیش نظر ایک عابد مسلمان کے منہ سے یہ دعا بھی بحالت تشہد کرائی جاتی ہے: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔یعنی اے نبی! تجھ پر سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔سب سے پہلے اس جامع دعا کے مستحق سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جنہوں نے مذکورہ بالا تینوں قسم کی عبادتوں میں اعلیٰ درجہ کا اسوۂ حسنہ پیش کیا۔یہ جملہ علاوہ دعا کے ایک پیشگوئی بھی ہے جو قرآن مجید کی آیات سے اخذ کی گئی ہے۔دیکھئے: سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَّبِّ رَّحِیم (یس : ۵۹) { سلام کہا جائے گا رب رحیم کی طرف سے۔} وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ۱۸۲) اور سلام ہو سب مُز سکین پر } وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ (الزمر: ۷۴) { تب اس کے دارو نے ان سے