صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 230
صحيح البخاری جلد ۲ باب ١٤٨ : التَّشَهُدُ فِي الْآخِرَةِ دوسرے ( جلسہ ) میں تشہد پڑھنا ١٠ - كتاب الأذان ۸۳۱: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۳۱ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: اعمش نے الْأَعْمَسُ عَنْ شَقِيْقَ بْن سَلَمَةَ قَالَ قَالَ ہمیں بتایا۔شقیق بن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ کہا: حضرت عبداللہ کہتے تھے: ہم جب نبی ﷺ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى پیچھے نماز پڑھتے تو یہ کہتے : جبریل اور میکائیل پر سلامتی جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيْلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانِ ہو فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔رسول اللہ ﷺ ہماری وَفُلَانِ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تو سلام اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ہے۔جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو چاہیے کہ یوں دعا کرے یعنی زبان سے متعلقہ تمام عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی (اللہ ہی کے لیے ہیں ) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اور اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ الله نیک بندوں پر بھی۔کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان اور الصَّالِحِيْنَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے کو دعا پہنچے گی۔اَشْهَدُ میں أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدِ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا یعنی میں گواہی دیتا ہوں (یا علی الصدق اقرار کرتا ہوں) فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔اطرافه ۸۳۵، ۱۲۰۲، ٦۲۳۰، ٦٢٦٥ ٦٣٢٨، ۷۳۸۱ تشریح التَّشَهدُ فِي الْآخِرَةِ : بعض لوگ اپنی مذکورہ بالا دعا میں اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کر لیتے تھے اور یہ کہتے : اَلسَّلَامُ عَلَى اللهِ مِنْ عِبَادِہ یعنی اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو۔اس سے مشرک اقوام کے نقطہ نظر کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے خداؤں کو بھی اپنی سلامتی کا محتاج بجھتی تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ