صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 230 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 230

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۳۰ ١٠ - كتاب الأذان باب ١٤٨ : التَّشَهُدُ فِي الْآخِرَةِ دوسرے ( جلسہ ) میں تشہد پڑھنا ۸۳۱: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۸۳۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: اعمش نے الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ ہمیں بتایا۔ شقیق بن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ کہا: حضرت عبداللہ کہتے تھے: ہم جب نبی ﷺ کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى پیچھے نماز پڑھتے تو یہ کہتے : جبریل اور میکائیل پر سلامتی جبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانِ ہو فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ رسول اللہ ﷺ ہماری وَفُلَانٍ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تو سلام اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو چاہیے کہ یوں دعا کرے یعنی زبان سے متعلقہ تمام عبادتیں اللہ ہی فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ کے لیے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی ( اللہ ہی کے لیے ہیں ) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اور اس کی برکتیں ہوں ؟ برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ نیک بندوں پر بھی۔ کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان اور الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے کو دعا پہنچے گی۔ اَشْهَدُ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا یعنی میں گواہی دیتا ہوں (یا علی الصدق اقرار کرتا ہوں ) اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اطرافه: ۸۳۵، ١۲۰۲، ٦٢٣٠، ٦٢٦٥، ٦٣٢٨، ٧٣٨١۔ رہ ار تشريح : التَّشَهدُ فِي الْآخِرَةِ: بع او اپنا دورہ بالا میں الہ تعالی کبھی شام کرلیتے تھے اوریہ کہتے : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ یعنی اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو۔ اس سے مشرک اقوام کے نقطہ نظر کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے خداؤں کو بھی اپنی سلامتی کا محتاج سمجھتی تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ