صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 229 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 229

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۹ ١٠ - كتاب الأذان رکعت فرض ہے ، یاد آنے پر وہ ضرور پڑھی جائے گی صرف سجدہ سہو کافی نہیں۔حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ عنہ کی روایت مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ پہلے تشہد کے لئے بیٹھنا بھول گئے اور آخر میں آپ نے تشہد نہیں پڑھا بلکہ صرف سجدہ سہو پر سلام پھیر کر نماز ختم کر دی۔مگر جو دوسرا تشہد تھا وہ دونوں جلسوں کے تشہد پر شامل ہو گیا بوجہ اس کے کہ سلام پھیر نے سے قبل سجدہ سہو کیا گیا۔اگر سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ سجدہ سہو بھولے ہوئے تشہد کے قائم مقام تھا۔بَاب ١٤٧ : التَشَهدُ فِي الْأُولَى پہلے ( جلسہ ) میں تشہد پڑھنا ۸۳۰: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۸۳۰: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: بکر حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ جَعْفَر بن رَبَيْعَةَ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے ،جعفر نے الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكَ ابْنِ اعرج سے اعرج نے حضرت عبداللہ بن مالک بن بُحَيْنَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله بحسینہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز نہیں پڑھائی اور آپ فَلَمَّا كَانَ فِي آخِر صَلَاتِهِ سَجَدَ کھڑے ہو گئے جبکہ آپ کو بیٹھنا تھا۔جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے اسی حالت میں کہ بیٹھے تھے، دو سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ۔سجدے کئے۔اطرافه: ۸۲۹، ۱۲۲٤، ۱۲۲۵، ۱۲۳۰، ۶۶۷۰ تشریح: کہ عدم وجوب سے یہ مراد ہے کہ اگر نماز میں سے کوئی حصہ چھوٹ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔الفاظ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ سے پہلے تشہد کی مشروعیت بیان کی گئی ہے۔احادیث میں جب لفظ ”جُلُوس» علی الاطلاق استعمال ہو تو اس سے جلسہ تشہد ہی مراد ہوتا ہے۔اگلے باب میں اس تشہد کی تشریح دیکھئے۔التَّشَهدُ فِي الأولى : مذکورہ بالا باب میں اس خیال کا رد کیا گیا ہے کہ سابقہ باب سے کوئی یہ نہ سمجھے