صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 228
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۸ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٤٦ : مَنْ لَمْ يَرَ التَّشَهُدَ الْأَوَّلَ وَاجِبًا جو پہلے تشہد کو فرض نہ سمجھے لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر اُٹھے مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَلَمْ يَرْجِعْ۔ اور پھر بیٹھے نہیں۔ ۸۲۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۸۲۹: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْ مُزَ مَوْلَى بَنِي عَبْدِ کہا: بن عبدالمطلب کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن الْمُطَّلِبِ وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَى رَبِيعَةَ بْنِ ہرمز نے بیان کیا اور ایک دفعہ کہا: ربیعہ بن حارث الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ وَهُوَ مِنْ کے آزاد کردہ غلام نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت أَزْدِ شَوْءَةَ وَهُوَ حَلِيْفٌ لِبَنِي عَبْدِ عبد اللہ بن نحسینہ نے جو قبیلہ از دشنوہ میں سے تھے اور بنی عبد مناف کے حلیف تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَنَافِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی کے صحابہ میں سے تھے، کہا : بی صلی الہ علیہ و اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور آپ پہلی دو رکعتوں میں بِهِمُ الظَّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسُ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا کھڑے ہو گئے، بیٹھے نہیں اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب آپ نماز پڑھ چکے اور لوگ قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ انتظار کرتے تھے کہ آپ سلام پھیریں گے تو آپ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ نے اسی حالت میں کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے، الله أَنْ يُسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ ۔ اکبر کہا اور سلام سے پہلے دو سجدے کئے۔ پھر آپ نے سلام پھیرا۔ اطرافه ۸۳۰، ۱۲۲۷، ۱۲۲۵ ، ١٢٣٠، ٦٦٧٠۔ تشريح : مَنْ لَّمْ يَرَ التَشَهدَ الأَوَّلَ وَاجِبًا: اكثر فقهاء ہاء کا یہ خیال ہے کہ پہلا تشہد سنت ہے، فرض نہیں۔ اس کی دلیل ان کے نزدیک یہ ہے کہ سجدہ سہو سے فرض ساقط نہیں ہوتا بلکہ سنت ساقط ہوتی ہے۔ مثلاً