صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 225 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 225

صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۲۲۵ ١٠ - كتاب الأذان يُكَبِّرُ وَهُوَ يَنْهَضُ : اکثر علماء کا یہ مذہب ہے کہ رکوع اور سجود کے وقت جھکنے یا اُٹھنے سے قبل اللہ اکبر کہا جائے۔مگر امام مالک نے اس بارے میں یہ اختلاف کیا ہے کہ تشہد سے اٹھنے پر اللہ اکبر اس وقت کہے جب وہ کھڑا ہورہا ہو۔یعنی دورانِ قیام میں اور ایک روایت کے مطابق امام مالک کا یہ مذہب بھی مروی ہے کہ سیدھا کھڑا ہونے یا بیٹھنے پر اللہ اکبر کہے۔سوائے شروع کی تکبیر کے جو کھڑا ہونے کے بعد کہی جاتی ہے۔غرض یہ اختلاف مد نظر رکھ کر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۹۳) كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُكَبِّرُ فِى نَهْضَتِهِ : ابن زہیر کا حوالہ ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔مصنف ابن ابي شيبه كتاب الصلوات باب من كان يتم التكبير ولا ينقصه في كل رفع و خفض روایت نمبر ۳۴۸۹) باب ١٤٥ : سُنَّةُ الْجُلُوس فِي التَّشَهدِ تشہد میں بیٹھنے کا طریق وَكَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ تَجْلِسُ فِي اورام درداء نماز میں مرد کی طرح ( روزانو ہوکر بیٹھتی صَلَاتِهَا جِلْسَةَ الرَّجُل وَكَانَتْ فَقِيْهَةً تھیں اور وہ عالمہ فقہ تھیں۔۸۲۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۸۲۷: عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مَّالِكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مالک سے، مالک نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ عبد الرحمن نے عبداللہ بن عبد اللہ سے روایت کی کہ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ انہوں نے اپنے بیٹے ) سے ذکر کیا کہ وہ (اپنے عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ باپ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھتے فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيْتُ السِّنَ تھے کہ نماز میں جب وہ بیٹھتے تو چار زانو ہوکر بیٹھتے۔فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ إِنَّمَا چنانچہ میں بھی اسی طرح بیٹھا۔ان دنوں میں کم سن سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى تھا۔حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے روکا اور کہا: نماز وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى فَقُلْتُ إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ میں بیٹھنے کا طریق تو یہی ہے کہ تو اپنا دایاں پاؤں کھڑا فَقَالَ إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي۔کرے اور بائیں کو موڑ دے۔میں نے کہا: آپ بھی تو اسی طرح بیٹھتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا: میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔