صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 7 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 7

حيح البخاري - جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان میں شیطان کے مظہر تین قسم کے ہیں۔شیطان اسم جنس ہے۔جو اپنے اندر کی مفہوم رکھتا ہے۔انبیاء کی دعوت کو روکنے کے لئے پہلا شیطانی گروہ وہ دشمنانِ حق ہیں جو ہر نبی کے زمانہ میں ان کی مخالفت کے لئے کھڑے ہوتے رہے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا۔(سورة الانعام : ۱۱۳) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے جن و انس کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا۔ان میں سے بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی باتیں دھوکہ دیتے ہوئے وحی کرتے ہیں۔} بعض شارحین نے ضَرَطَ بِهِ وَ اَضْرَطَ بِہ کے معنی استخفاف اور تحقیر کے کئے ہیں اور اس کے لئے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا ہے جو دراصل حدیث نہیں۔بلکہ حضرت علی کا ایک قول ہے۔کسی پوچھنے والے نے ایک احمقانہ سوال کیا تو آپ نے اس سوال کو بنظر استخفاف دیکھا۔اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَاضُرَطَ بِالسَّائِلِ۔يعنى اِسْتَخَفَّ بِهِ وَانْكَرَ قَوْلَهُ۔(تاج العروس تحت لفظ ضرط) غرض امام بخاری نے باب التاذین کے تحت مذکورہ بالا حدیث لا کر یہ بتایا ہے کہ پہلے مذاہب کی ندا ئیں شیطانی لوگوں کی بیہودہ سرائیوں سے مدھم پڑ گئیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کھلم کھلا اعلان تو حید اپنے ساتھ امتیاز رکھتا ہے کہ شیطان اس کے ذریعہ سے شکست کھائے گا۔گھڑیالوں کی ٹن ٹن اور نرسنگوں کی بھوں بھوں گونگی بے معنی آواز میں تھیں۔جنہیں شیطان اپنے ڈھب پر لے آیا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بولتی چالتی گرجتی گونجتی آواز کے سامنے وہ تاب مقاومت نہ لا سکے گا اور یہی وہ فوقیت ہے جو اسلامی اذان کو دیگر مذاہب کی نداؤں پر حاصل ہے۔بَابه : رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتِدَاءِ اذان کے لیے آواز بلند کرنا وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : أَذِنْ أَذَانًا اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اذان صاف سیدھی دیا سَمْحًا وَإِلَّا فَاعْتَزِلْنَا۔کرو۔ورنہ ہم سے الگ ہو جاؤ۔٦٠٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۰۹ عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الرحمن بن عبد اللہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ انصاری مازنی سے روایت صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيّ ثُمَّ الْمَازِنِي عَنْ کی - عبد الرحمن نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں أَبِيْهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيْدِ الْخُدْرِيَّ نے بتایا۔حضرت ابوسعید خدری نے ان سے کہا: میں تم قَالَ لَهُ : إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ کو دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔