صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 223 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 223

صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٤٣ : كَيْفَ يَعْتَمِدُ عَلَى الْأَرْضِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ جب رکعت سے اٹھے تو زمین پر کس طرح سہارا لے ٨٢٤: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ :۸۲۴ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ و ہیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب قَالَ جَاءَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ فَصَلَّی نے ابوقلابہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہمارے بِنَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا فَقَالَ إِنِّي لَأُصَلّي پاس حضرت مالک بن حویرث آئے اور انہوں نے بِكُمْ وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنْ أُرِيدُ أَنْ ہماری اس مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی اور کہا: میں تمہیں أَريَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نماز پڑھاتا ہوں اور میرا ارادہ نماز کا نہیں۔بلکہ میں وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ أَيُّوبُ فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ تمھیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَكَيْفَ كَانَتْ صَلَاتُهُ قَالَ مِثْلَ صَلَاةِ کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا۔ایوب کہتے تھے : میں نے شَيْخِنَا هَذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ قَالَ ابو قلابہ سے پوچھا: حضرت مالک کی نماز کیسی تھی؟ أَيُّوبُ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّيْخ يُتِمُ التَّكْبِيرَ انہوں نے جواب دیا: ہمارے اس شیخ کی نماز کی وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ عَنِ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ طرح تھی۔اس سے ان کی مراد عمر و بن سلمہ تھے۔جَلَسَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَامَ ایوب کہتے تھے اور وہ شیخ تکبیر یں پوری کہتے تھے اور جب وہ دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے اور اطرافه: ۶۷۷، ۸۰۲، ۸۱۸ زمین پر سہارا لے کر پھر کھڑے ہوتے۔تشریح كَيْفَ يَعْتَمِدُ عَلَى الْأَرْضِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ: سجدے سے دوطرح الھا جاسکتا ہے۔بغیر بیٹھنے کے اپنے بازوؤں کے بل جہاں سجدے میں تھا وہیں سے اٹھا جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے بیٹھے اور پھر ہاتھوں کے بل سہارا لیتے ہوئے اٹھے۔سابقہ باب میں بتایا گیا ہے کہ بیٹھ کر اٹھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔اس باب میں امام بخاری ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو سجدے سے ہاتھوں کے بل بغیر جلسہ استراحت کئے اٹھنا پسند کرتے ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۹۲)