صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 222 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 222

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٤٢ : مَنِ اسْتَوَى قَاعِدًا فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ نَهَضَ جو اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں سیدھا بیٹھ جائے اور پھر اٹھے ۸۲۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَاحِ ۸۲۳ محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ہشیم نے ہمیں بتایا، کہا: خالد حذاء نے ہم سے بیان الْحَدَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ کیا ۔ ابو قلابہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت بْنُ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْنِيُّ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى مالك بن حویرث لیٹی نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے نبی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرِ مِنْ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ جب آپ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا۔ نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو آپ نہ اٹھتے جب تک کہ سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جاتے ۔ تشريح : مَنِ اسْتَوَى قَاعِدًا فِي وَتْرِ وتُرٍ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ نَهَضَ : پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھتے وقت پہلے بیٹھ جائے اور پھر جلسہ استراحت ( آرام کرنے ) کے بعد اٹھے۔ یعنی تھوڑے سے وقفے کے بعد اٹھ کر کھڑا را ہونا چاہیے۔ اختلافی مسئلہ ہونے کی وجہ سے باب کا وجہ سے باب کا عنوان اسم موصولہ مَن سے قائم سے قائم کیا گیا ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جلسہ استراحت ضروری ہے۔ حضرت مالک بن حویرث لیٹی کی مذکورہ بالا روایت سے متعلق یہ احتمال پیش کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے جلسہ استراحت کیا ہوگا۔ مگر راوی جو کہ اپنی عینی شہادت پیش کر رہا ہے وہ اس امر سے زیادہ واقف ہو سکتا تھا۔ محض خیالی احتمال کی بناء پر اثباتی پہلو کو سلبی پہلو کی خاطر ترک نہیں کیا جاتا ۔ حدیث صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلَّى ( نمبر (۶۳) کے راوی بھی حضرت مالک بن حویرت ہیں اور اس بارہ میں ان کا قول زیادہ قابل اعتماد ہے ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۹۱) علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وقار و اطمینان کی حالت جو ہماری نماز کے لئے ضروری ہے۔ اس کا کیا تقاضا ہے۔ احناف حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت بطور دلیل پیش کرتے ہیں: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَنْهَضُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ۔ (ترندی- كتاب الصلاة باب بعد باب ما جاء كيف النهوض من السجود ) نیز تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۹۲ - یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصے کے بل اٹھا کرتے تھے۔ یہ روایت جلسہ استراحت کے مخالف نہیں کیونکہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ سجدے کے معاً بعد اٹھتے تھے۔ بلکہ یہ ذکر ہے کہ جب آپ قیام کے لئے اٹھتے تو تو ب پاؤں کی انگلیوں پر سہارا لے کر اٹھتے اور یہ یہ صورت صورت جلسہ جلسہ کا استراحت کے کے مخالف مخالف نہیں۔