صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 221
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۱ بَاب ١٤١ : لا يَفْتَرسُ ذِرَاعَيْهِ فِي السُّجُودِ سجدہ میں اپنی دونوں باہیں نہ بچھائے بچھا یا تھا اور نہ انہیں سمیٹا تھا۔١٠ - كتاب الأذان وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى حضرت ابوحمید کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ ( زمین پر ) رکھے نہ انہیں مُفْتَرِشِ وَلَا قَابِضِهِمَا۔۸۲۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ :۸۲۲ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جعفر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنس بن ہمیں بتایا، کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔انہوں نے مَالِكِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت انس بن مالک سے ، حضرت انس نے نبی صلی اعْتَدلُوا فِي السُّجُوْدِ وَلَا يَبْسُطُ الله عليه وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سجدہ أَحَدَكُمْ ذِرَاعَيْهِ الْبِسَاطَ الْكَلْبِ۔میں اعتدال سے کام لو اور تم میں سے کوئی اپنی باہیں اس طرح نہ پھیلا دے جس طرح کتنا پھیلاتا ہے۔اطرافه ٢٤١ ، ٤٠٥، ٤۱۲ ، ٤١٣، ٤١٧، 531، ٥٣٢، ۱۲۱٤۔تشریح: لَا يَفْتَرِشُ ذِرَاعَيْهِ فِى السُّجُودِ : عنوان باب کے الفاظ دوسری روایتوں سے لئے گئے ہیں، جو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ و غیرہ محدثین نے اپنی مسندوں میں درج کی ہیں۔(صحیح مسلم، کتاب الصلواة، باب ما يجمع صفة الصلواة) نيز دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۹۰ اور حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا حوالہ روایت نمبر ۸۲۸ میں دیکھئے۔مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے حدیث کے الفاظ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ کی وضاحت کی گئی ہے۔مذکورہ بالا مخصوص ہیئت میں سجدہ کرنے سے کسل پیدا ہوتا ہے۔تمام وہ احادیث جن میں جسمانی وضع اور حرکات و سکنات ضبط میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس حکمت پر مبنی ہیں کہ ہمارے ظاہر کا باطن سے گہرا تعلق ہے۔اس امر کی تفصیلی بحث جو نہایت دلچسپ اور مفید ہے؛ کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان ”سوال اول کا جواب : انسان کی جسمانی اخلاقی اور روحانی حالتیں، صفحہ ۲ تا ۸۲- روحانی خزائن جلد اصفحہ ۳۱۶ تا ۳۹۶ میں دیکھئے۔