صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 218
ی جلد ۲ ۲۱۸ ١٠ - كتاب الأذان اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی: پاک ذات ہے تیری يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ۔اطرافه ،٧٩٤ ، ٤۲۹۳ ٤٩٦٧، ١٤٩٦٨ تشریح: اے اللہ ! جو ہمارا رب ہے اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما۔آپ اس دعا کو قرآن مجید سے استنباط فرماتے تھے۔التَّسْبِيحُ وَالدُّعَاءُ فِى السُّجُودِ : مذکورہ بالا دعا کی تشریح کے لئے دیکھئے باب ۱۲۳ کی تشریح يَتَاَوَّلُ الْقُرْآنَ کے معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کو قرآن مجید سے استنباط کیا تھا۔چنانچہ قرآن مجید میں آتا ہے: فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَتِكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔( النصر (۴) یعنی اے نبی ! تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کرنے میں مشغول ہو جا اور مسلمانوں کی تربیت جن دعاؤں کی محتاج ہے، وہ دعائیں کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کی تعمیل میں مذکورہ بالا دعاکرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری دعائیں وجی الہی کی خاص تجلیات کے تحت تھیں۔اس ضمن میں باب ۸۹ کی تشریح بھی دیکھئے۔اور آپ کا یہ استنباط بھی روح القدس کی تجلی سے ہیں تھا۔يَتَاَوَّلُ الْقُرْآن کے یہ معنے بھی کئے گئے ہیں کہ قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۸۷) بَاب ١٤٠ : الْمُكْثُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ دو سجدوں کے درمیان ٹھہرنا ۸۱۸: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۸۱۸ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : حماد نے حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ ابو قلابہ سے روایت کی کہ حضرت مالک بن حویرث لِأَصْحَابِهِ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اللهِ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صَلَّى اللهُ وَسَلَّمَ قَالَ وَذَاكَ فِي صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ (ابوقلابہ) نے غَيْرِ حِيْن صَلَاةٍ فَقَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ ثُمَّ کہا: اس وقت نماز فریضہ کا وقت نہ تھا۔چنانچہ وہ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيَّةٌ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ کھڑے ہوئے اور پھر انہوں نے رکوع کیا اور پھر رَأْسَهُ هُنَيَّةً فَصَلَّى صَلَاةَ عَمْرُو بْن اَللَّهُ أَكْبَرُ کہا: پھر انہوں نے سر اٹھایا اور کچھ دیر سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا قَالَ أَيُّوبُ كَانَ کھڑے رہے۔پھر سجدہ کیا۔پھر انہوں نے سر اُٹھایا