صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 217
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱۷ باب ۱۳۸ : لَا يَكُفُّ ثَوْبَهُ فِي الصَّلَاةِ نماز میں اپنے کپڑے نہ سمیٹے ١٠ - كتاب الأذان ٨١٦: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۱۶: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو سے، عمرو نے طَاوس عَنِ ابْنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ طاؤس سے ، طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ لَا أُكُفُّ ہے۔آپ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ سات شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا۔(ہڈیوں) پر سجدہ کروں اور نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ تشریح: کپڑے کو۔اطرافه ۸۰۹، ۸۱۰، ۸۱۲، ۸۱۵ لَا يَكُفُّ ثَوْبَهُ فِى الصَّلَاةِ : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو الگ عنوان میں واضح کر کے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ استثنائی صورت میں کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی اجازت دینے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اصل حکم منسوخ ہے۔وہ برقرار ہے گا اور عام حالات میں اس پر عمل کیا جائے گا۔عنوان باب میں فی الصَّلاةِ کے الفاظ سے امام موصوف رحمۃ اللہ علیہ نے اس حکم کی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس سے نماز میں بے تو جہی پیدا ہو سکتی ہے۔(دیکھئے تشریح کتاب الاذان باب ۱۳۳) باب ۱۳۹ : اَلتَّسْبِيحَ وَالدُّعَاءُ فِي السُّجُودِ سجدہ میں دعا اور تسبیح کرنا :۸۱۷: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۱۷ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ بتایا۔سفیان سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: منصور نے عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ مجھے بتایا۔انہوں نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں فِي رُكُوْعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ اکثر یہ کہا کرتے تھے: سُحْنَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا