صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 6
صحيح البخاری جلد ۲ Y ١٠ - كتاب الأذان سد باب اسلام نے اذان اور نماز سے کیا ہے۔ اذان جیسا کہ آگے بتایا جائے گا ، اسلام کے اصولی مقاصد کا ایک کامل اور واضح اعلان ہے۔ پس خبیث روح کی یہ کوشش کہ نیکی کی آواز لوگوں کے کانوں میں نہ پڑے، اس اعلان کے ساتھ ملیا میٹ ہو جاتی ہے۔ یہی مراد ہے شیطان کے بھاگنے سے۔ اس کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ انبیاء کی آواز کسی نہ کسی طرح مدھم ہو جائے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوتار کامیاب بھی ہوتا رہا ہے ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِه ۔ (سورۃ ابراہیم : ۱۰) { تو انہوں نے تکبر کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں رکھ لئے اور کہا: یقینا ہم اس صلى الله چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو، انکار کرتے ہیں ۔ مگر جو آواز رسول اللہ ﷺ نے اُٹھائی ہے وہ شیطانی کوششوں ۔ سے مدھم ہونے والی نہیں۔ بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے فضائے عالم میں گونجنے والی ہے۔ ہر دفعہ جب مؤذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور عظمت کا اعلان کرتا ہے تو اس کا یہ اعلان حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّاذِينَ سے متعلق شیطانی جدو جہد کو خس و خاشاک کر دیتا ہے۔ وَلَهُ ضُرَاط یعنی اس پاک اعلان کے بالمقابل سوائے بیہودہ بکو اس کے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اس امر کی بایں الفاظ تصریح فرماتا ہے : وَإِذَا نَادَيْتُمُ إِلى الصَّلَوةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ( سورۃ المائدہ: ۵۹) یعنی جب تم نماز کے لئے بلاتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل سمجھتے ہیں۔ مذکورہ بالا جملہ ایک تمثیل ہے۔ جیسا کہ علامہ بیٹی نے بھی اپنی شرح میں لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۱۱۱) لفظ ضراط یا گوز کے مترادفات انگریزی، فارسی اور دوسری زبانوں میں بھی بطور استعارہ استعمال ہوتے ہیں۔ کا بکرے جو انگریزی زبان کا مشہور ادیب ہے اس نے شیطان کے لئے یہی محاورہ گھبراہٹ، پریشانی اور ناکامی کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ (The Oxford English Dictionary, under word: Break, Wind) علامہ عینی نے بھی سخت خوف اور گھبراہٹ کے معنوں میں ہی مذکورہ بالا محاورہ کی تشریح کی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۱۱۱ ) غرض ایسے محاوروں کا بو اور ناک کے ساتھ تعلق نہیں، بلکہ کانوں کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ اسی پر دلالت کرتے ہیں اور یہ حق کے دشمن اب تک اس آواز کو سن کر ہنسی مخول اور بکواس سے کام لیتے ہیں۔ مگر اذان کا آوازہ توحید چہار دانگ عالم میں دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ شیطانی فوجیں اس کے سامنے پسپا ہو رہی ہیں ۔ دوسری کوشش شیطان کی یہ تھی کہ واحد و یگانہ کی پرستش سے لوگوں کو روکے اور ان کی گردنوں سے غیر اللہ کا جوا نہ اتر نے پائے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کا اعلان بھی اس کے لئے کاری حربہ ہے۔ اس اعلان پر لاکھوں نارو ناقوس اور بتوں سے منہ موڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر دفعہ قَدْ قَامَتِ الصلوة کا اعلان ہوتا ہے تو شیطان اپنی نا کامی دیکھتا ہے۔ تیسری کوشش اس کی وساوس کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ جس کا علاج نماز میں رکھا گیا ہے۔ دیکھئے کتاب الوضوء تشریح روایت نمبر ۱۶۰۔ امام بخاری نے یہ روایت نمبر ۱۲۲۲ میں بھی دہرائی ہے اور وہاں باب کا عنوان وساوس سے متعلق باندھا ہے۔ بوجہ اس کے کہ ضراط کا تعلق وساوس اور شبہات کے ساتھ ہے۔ یہاں یہ یادر ہے کہ ان تین قسم کی کوششوں