صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 209
صحيح جلد ۲ ۲۰۹ ١٠ - كتاب الأذان ذلِكَ لَكَ وَ عَشَرَةُ امْثَالِهِ : مذکورہ بالا روایت کے آخر میں حضرت ابوسعید خدری کی روایت کے حوالہ سے عنوانِ باب کے اصل مقصود کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ روایت طویل ہے۔مگر اس موقع پر امام بخاری نے اس میں سے صرف وہ حصہ لیا ہے، جس میں دس گنا ثواب کا ذکر ہے۔سجدہ کی فضیلت اس کے نتائج کے ذریعہ سے ظاہر کی گئی ہے۔باب ۱۳۰ : يُبْدِي ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِي فِي السُّجُوْدِ سجدہ میں اپنے دونوں بازو کھلے رکھے اور سجدہ میں ( پیٹ کو رانوں سے ) الگ رکھے ۸۰۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :۸۰۷ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، کہا: بکر حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ بن مصر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے جعفر ( بن ربیعہ ) هُرْ مُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْن بُحَيْنَةَ أَنَّ سے جعفر نے ابن ہرمز سے، ابن ہرمز نے حضرت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ عبد اللہ بن مالک بن بحسینہ سے روایت کی کہ نبی بنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُ وَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ۔صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ دونوں ہاتھ ( پہلو) سے الگ رکھتے۔یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ اور لیث ( بن سلام ) نے کہا کہ جعفر بن ربیعہ نے مجھ سے بھی اسی طرح بیان کیا۔نَحْوَهُ۔اطرافه: ٣٩٠، ٣٥٦٤ تشریح : يُبْدِى ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِي فِي السُّجُود : مذکورہ بالاخوان کتاب الصلاۃ باب ۲۷ میں ایک اور غرض کے لئے قائم کیا گیا تھا۔یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ سجدہ میں ایسی وضع اختیار کرے۔جس سے غفلت اور ستی پیدا نہ ہو اور جسم کا بوجھ ہر عضو پر تقسیم ہو جائے۔اس ضمن میں کتاب الصلوۃ باب ۲۳ کی تشریح بھی دیکھئے۔