صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 210
صحيح البخار جلد ۲ ۲۱۰ بَاب ۱۳۱ : يَسْتَقْبِلُ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ (سجدہ میں ) اپنے پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ رکھے۔١٠ - كتاب الأذان قَالَهُ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ عَنِ النَّبِيِّ اسے حضرت ابو حمید الساعدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تشریح: يَسْتَقْبِلُ بِاطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ: یہی عنوان کتاب الصلوۃ باب ۲۸ میں بھی رکھا گیا ہے۔وہاں کچھ اور غرض ہے اور یہاں کچھ اور۔اس جگہ اس عنوان کا صرف جسمانی وضع کے ساتھ تعلق ہے۔اس باب کے ذیل میں کوئی روایت بیان نہیں کی گئی۔صرف ایک روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔جو آگے باب ۱۴۵ میں منقول ہے۔( روایت نمبر ۸۲۸ ) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سجدہ کرتے وقت پاؤں انگلیوں کے بل کھڑے ہوں اور ایڑیاں اونچی ہوں۔انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔سجدے کی اس مخصوص ہیئت میں سر، بازو، پاؤں، ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں سب کا رخ ایک ہی طرف ہوگا۔یکسوئی صرف افراد کی صف بندی میں ہی نہیں ہونی چاہیے۔بلکہ ہر فرد کے اپنے ظاہر و باطن میں بھی۔ات باب ۱۳۲ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ السُّجُوْدَ اگر سجدہ پورا نہ کرے ۸۰۸: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۸۰۸ صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ أَبِي مہدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے واصل سے، واصل ائِل عَنْ حُذَيْفَةَ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ نے ابووائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ سے رُكُوعَهُ وَلَا سُجُوْدَهُ فَلَمَّا قَضَی روایت کی کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا؟ جو رکوع صَلَاتَهُ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مَا صَلَّيْتَ قَالَ اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔جب وہ نماز پڑھ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ چکا تو حضرت حذیفہ نے اس سے کہا: تم نے نماز نہیں پڑھی۔( ابو وائل) کہتے تھے اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تم (اب) مرجاؤ تو نبی۔محمد سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ۳۸۹، ۷۹۱ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں مرو گے۔