صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 208 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 208

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۸ ١٠ - كتاب الأذان خُشُوا۔( بنی اسرائیل: ۱۰۸تا ۱۱۰) { وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہوتے ہوئے گر جاتے تھے۔اور وہ کہتے تھے ہمارا رب پاک ہے یقیناً ہمارے رب کا وعدہ تو بہر حال پورا ہو کر رہنے والا ہے۔وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گر جاتے تھے اور یہ انہیں انکساری میں بڑھا دیتا تھا۔} خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ ان کے سجدوں کا اثر ان کے چہروں پر نمایاں ہوگا اور ان کی نیتوں میں بھی اور ان کے اعمال میں بھی۔ان کے دل یقین سے بھرے ہوئے ہیں اور خشوع ان پر طاری ہوتا ہے۔وہ سجدوں میں پڑے روتے ہیں۔ایسا سجدہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے جسم کا ذرہ ذرہ جناب انہی میں اس طرح سر بسجود ہے جس طرح تمام کائنات - وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَالْمَلَئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ۔يَخَافُونَ رَبَّهُمُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل:۵۱۷۵۰) { اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں جاندار ہیں اور تمام فرشتے بھی اور وہ استکبار نہیں کرتے۔وہ اپنے اوپر غالب رب سے ڈرتے ہیں اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔} ایسے لوگوں کے جسموں کو جہنم کی آنچ تک نہیں پہنچے گی۔مگر وہ لوگ جو منافق ہوتے ہیں اور جن کا اثر سجود صرف داغ پیشانی تک محدود ہوتا ہے۔ان کا سارا جسم سوائے داغ سجدہ کے جل کر کوئلہ ہو جائے گا۔یہ مفہوم ہے اس حدیث کا جس سے سجدہ کی فضیلت عیاں ہے۔وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ پہلی بار تجلیل کرے گا منافق ہوں گے۔جنہوں نے دنیا میں باوجود اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کے پھر اس کو نہیں پہچانا تھا۔فَيَقُولُونَ هَذَا مَكَانُنَا وہ کہیں گے : ہم اسی جگہ رہیں گے۔اس سے آگے نہیں بڑھیں گے۔یہ لوگ جہنم میں رہ جائیں گے اور وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع اور فرمانبردار ہوں گے پل صراط سے گزر جائیں گے۔بغیر اس کے کہ آگ ان پر اثر کرے۔جہنم کے اُن نظاروں کے متعلق تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی۔دوسرا سوال-صفحه ۹۲ تا۹۶ - روحانی خزائن جلد اصفحه ۶ ۴۰ تا ۴۱۰۔نیز چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۶۲ تا ۶۳ - اس روایت کے شروع میں دیدار الہی کا جو ذکر ہے اس کے متعلق ملاحظہ ہو کتاب مواقیت الصلوۃ باب ۱۶ روایت نمبر ۵۵۵۔روایت نمبر ۸۰۶ کے آخری حصہ سے بھی اسلامی جہنم کی حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔جہنم کی سزا بطور تمہید ہے، ان ترقیات کے لئے جن کی انسان خواہش کر سکتا ہے اور ان ترقیات کے لئے بھی جو انسان کے تصور سے بالا تر ہیں۔آیت کریمہ وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبَّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبَّنَا لَمَفْعُولًا (بنی اسرائیل :۱۰۹) { اور وہ کہتے تھے ہمارا رب پاک ہے۔یقیناً ہمارے رب کا وعدہ تو بہر حال پورا ہو کر رہنے والا ہے۔} اس میں اسی شان ربوبیت کا اقرار کیا گیا ہے۔اسلام ایسی جہنم سے انکار کرتا ہے جو رحمت سے معتر ا اور شان ربوبیت کے منافی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی حقیقت اور انسان کی آرزومند فطرت اور شان ربوبیت اور اس کی بے پایاں رحمت تمثیلی پیرایہ میں واضح فرمائی ہے۔حیات اخرویہ کے حالات سوائے اس پیرا یہ بیان کے اور کسی پیرائے میں بیان نہیں کئے جاسکتے۔اس ضمن میں دیکھئے تشریح کتاب الایمان- روایت نمبر ۲۲ زیر باب ۱۵ -