صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 207
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۷ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ( اور ) حضرت ابوسعید خدری نے حضرت ابو ہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى رضی اللہ عنہما سے کہا: (کیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ لَكَ (اس حدیث میں ) یوں فرمایا تھا کہ اللہ (عزوجل) ذَلِكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ فرمائے گا: یہ سب تیرے لیے اور اس کا دس گنا اور بھی ۔ أَحْفَظُ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وَسَلَّمَ إِلَّا قَوْلَهُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ مجھے تو یہی یاد ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: یہ سب تیرے لیے قَالَ أَبُو سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور بھی ۔ حضرت ابوسعید نے کہا: لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ۔ اطرافه: ٦٥٧٣، ٧٤٣٧۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: یہ سب تیرے لیے اور اس کا دس گنا اور بھی۔ تشریح : فَضْلُ السُّجُودِ : باب ۱۲۹ ے ساتھ روایت نمبر ۸۰کا تعلق ہے وہ ان الفاظ سے واضح ہے۔ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ اَثَرَ السُّجُودِ یعنی سجدہ کے نشان کو آگ نہیں جلا سکے گی۔ اس سے یہ و ہم گزرتا ہے کہ سجدہ کرنے والے کے باقی جسم کو آگ جلا دے گی۔ جیسا کہ الفاظ آنْ يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُوْنَهُمْ بِأَثَارِ السُّجُودِ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبادت کرنے والے بھی جہنم میں جائیں گے۔ در حقیقت یہ منافق لوگ ہیں ۔ جیسا کہ اسی حدیث کے الفاظ وَفِيهَا مُنَافِقُوهَا : ھا بتا رہے ہیں اور حدیث نمبر ۲۲ سے بھی واضح ہوتا ہے۔ جس کے یہ الفاظ ہیں: اَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانٍ فَيُخْرِجُوْنَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَياةِ۔ (دیکھئے تشریح کتاب الایمان روایت نمبر ۲۲ زمیر باب ۱۵) امام بخاری اس سے یہاں ایک لطیف استدلال کر رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ منافق ہوں گے اور ان کے دلوں میں ایمان رائی کے برابر ہی ہوگا۔ پھر بھی ان کے ظاہری سجود کا یہ اثر ہو گا کہ آخر وہ اس کی وجہ سے نجات پائیں گے۔ اس سے حقیقی سجدہ کی فضیلت عیاں ہے۔ وہ حقیقی سجدہ جس کے متعلق قرآن مجید ان الفاظ میں ارشاد فرماتا ہے: رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ تَرْهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ( الفتح : ٣٠) ( اور ) آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے۔ تو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں ۔ سجدوں کے اثر سے اُن کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔ اور فرماتا ہے: يَخِرُّونَ لِلاذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ۔ وَيَخِرُّونَ لِلاذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمُ