صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 5
حيح البخاري - جلد ۲ A بَاب ٤ : فَضْلُ التَّأْذِيْن اذان دینے کی فضیلت ١٠ - كتاب الأذان ٦٠٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۶۰۸: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مالک نے ہمیں بتایا انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نُودِيَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ جب نماز کے لئے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِيْنَ فَإِذَا قُضِيَ گوز مارتے ہوئے چلا جاتا ہے۔تا کہ وہ اذان نہ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوبَ بِالصَّلَاةِ ہے۔جب اذان ہو چکتی ہے تو وہ پھر سامنے آ جاتا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّنْوِيْبُ أَقْبَلَ ہے۔یہاں تک کہ جب نماز کے لئے تکبیر کہی جاتی حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ ہ تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔آخر جب تکبیر ختم کی جاتی ہے تو پھر وہ سامنے آجاتا ہے۔تا کہ آدمی اور اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ اس کے نفس کے درمیان خیالات ڈالے۔کہتا ہے یہ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ یاد کر۔وہ یاد کر۔اور ایسی ایسی باتیں جو اس کو یاد نہیں ہوتیں۔یہاں تک کہ آدمی ایسا ہو جاتا ہے کہ اسے صَلَّى۔اطرافه : ۱۲۲۲ ، ۱۲۳۱، ۱۲۳۲، ۳۲۸۵ پتہ نہیں رہتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے۔إِذَا نُودِيَ لِلصّلوةِ اَدْبَرَ الشَّيْطَنُ : روایت نمبر۲ ۶۰ کی تشریح میں شیطان کے لغوی معنی تشریح : بتائے جاچکے ہیں۔روایت نمبر ۶۰۸ میں شیطان سے مراد وسواس خناس ہے، جو انسان کے دل میں مختلف شبہات ڈال کر اس کی توجہ ہٹا تا اور نماز میں مخل ہوتا ہے۔اس کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ نیکی کی آواز انسان کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے اور اگر کسی کے کان نیکی سے آشنا ہو چکے ہوں تو اس کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہنسی مذاق اور شبہات سے اس کا نیک اثر پیدا نہ ہونے دے اور اگر وہ اس میں بھی کامیاب نہ ہو تو پھر اس کی تیسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ باریک راہوں سے وسوسوں کی صورت میں انسان کے دل و دماغ میں چکر لگاتا اور قدم قدم پر اس کی توجہ اللہ تعالیٰ سے ہٹاتا ہے۔شیطان کی کوشش کے یہ تین مرحلے ہیں، جن کی طرف مذکورہ بالا حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے اور جن کا