صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 200
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۰ ١٠ - كتاب الأذان الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي ابوهريرة رمضان میں اور رمضان کے علاوہ دوسرے كُلِّ صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا في وقتوں میں بھی ہر نماز میں اللہ اکبر کہتے۔نماز فریضہ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ فَيُكَبِّرُ حِيْنَ يَقُوْمُ ثُمَّ میں بھی اور اس کے سوا اور نمازوں میں بھی۔جب وہ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللهُ کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور پھر جب رکوع لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کرتے تب بھی الله اكبر کہتے۔پھر کہتے: سَمِعَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُوْلُ اللهُ أَكْبَرُ حِيْنَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ۔پھر سجدہ کرنے سے پہلے يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبَرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہتے۔پھر جب سجدہ میں رَأْسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ جاتے تو اللہ اکبر کہتے۔پھر جب سجدہ سے سر يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔پھر جب سجدہ کرتے تو اللہ السُّجُودِ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَقُوْمُ مِنَ اكبر کہتے۔پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو الله الْجُلُوسَ فِي الْإِثْنَتَيْنِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي اكبر کہتے۔پھر جب دورکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ ثُمَّ واللہ اکبر کہتے اور اسی طرح ہر رکعت میں کیا يَقُوْلُ حِيْنَ يَنْصَرِفُ وَالَّذِي نَفْسِی کرتے۔یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔پھر بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهَا بِصَلَاةِ رَسُوْلِ جب نماز سے فارغ ہو جاتے تو کہتے قسم ہے اس کی اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کی نسبت میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا۔سے زیادہ مشابہ ہے۔یہی آپ کی نماز تھی یہاں تک اطرافه ۷۸۵، ۷۸۹، ۷۹۰ کہ دنیا سے آپ جدا ہوئے۔٨٠٤: قَالَا وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ :۸۰۴: (ابوبکر اور ابوسلمہ) کہتے تھے: حضرت اللهُ عَنْهُ وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ يَقُولُ سَمِعَ اللهُ جس وقت سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ