صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 197
صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۹۷ ١٠ - كتاب الأذان النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔جب آپ نے رکوع سے سر مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اٹھایا تو آپ نے فرمایا: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ایک قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ شخص حضرت رفاعہ) نے آپ کے پیچھے سے کہا: رَبَّنَا حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ فَلَمَّا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيهِ - انْصَرَفَ قَالَ مَن الْمُتَكَلِّمُ قَالَ أَنَا قَالَ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: رَأَيْتُ بِضْعَةَ وَثَلَاثِيْنَ مَلَكًا يَبْتَدِرُوْنَهَا بولنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: میں۔آپ نے فرمایا: أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ۔میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان الفاظ کی طرف لپک رہے تھے کہ کون پہلے انہیں لکھتا ہے۔تشریح: یہ بلحاظ مضمون یہ باب پہلے باب سے تعلق رکھتا ہے۔اس وجہ سے اس کا نیا عنوان قائم نہیں کیا گیا اور وہ تعلق ہے ہے کہ امام کے سمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہنے کے بعد مقتدیوں کو حمد الہی اور دعا میں مشغول ہو جانا چاہیے۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس اعلان کے بعد دعائیں کرتے تھے۔روایت نمبر ۷۹۸،۷۹۷ کا ذکر کرنے سے یہی مراد ہے اور نمبر ۷۹۹ میں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ حمد کا اقرار قلبی جذبے کے تحت ہونہ صرف الفاظ سے۔یہی حمد در حقیقت قابل قدر ہوتی ہے، جسے ملائکہ محفوظ رکھتے ہیں۔ملائکہ کے لکھنے کے یہی معنے ہیں کہ ایسی دعا قابل قدر ہے۔يَلْعَنُ الْكُفَّارَ : روایت نمبر ۷۹۷ میں لعنت یا بد دعا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے لوگوں کو عملاً سمجھانا چاہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کے بعد کس طرح دعا کیا کرتے تھے۔لا قَرِبَنَّ صلوة النبي ﷺ کا یہی مفہوم ہے اور اس میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعائے قنوت دہرائی ہے جو آپ نے ان کفار مضر کے لئے کی تھی۔جنہوں نے ستر قاریوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کر ڈالا تھا۔اس وجہ سے آپ نے ان ظالموں کے لئے بددعا کی۔نبی رحمہ للعالمین ہوتے ہیں اور فاسد حصے کا کاٹ ڈالنا بعض وقت عین رحمت ہوتا ہے اور نبی اپنی مرضی و خواہش سے کبھی کسی پر لعنت نہیں کرتے۔ان کا غضب الہی غضب کی تجلی کا ایک عکس و نمونہ ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت دعا یا بددعا کرتے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کی غرض ، صفحہ ۱۳۶ تا ۱۳۸- روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۵ تا ۴۵۲۔روایت نمبر ۷۹۷، ۷۹۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعائے قنوت کسی خاص نماز کے ساتھ مقید نہ تھی۔ظہر، عشاء، فجر، مغرب جب کوئی چاہے دعا کرے۔