صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 195 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 195

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۹۵ ١٠ - كتاب الأذان یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ مخلوق اس کی حمد کر رہی ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی جو حمد بھی کرے گی وہ ایک نسبتی تشبیہی اور تنزیہی رنگ میں ہوگی۔ اس لئے اس نے اپنی ذاتی حمد کبھی کسی مخلوق کی طرف منسوب نہیں کی۔ بلکہ جب بھی اس نے قرآن مجید میں اپنی حمد کا ذکر فرمایا ہے تو ان الفاظ میں فرمایا ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ (۲) { تمام حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔} فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الجاثيه : ۳۷) { پس اللہ ہی کی سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب ہے ( یعنی وہی ) جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ } لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالآخِرَةِ (القصص: ۷۱) { ابتداء اور آخرت (دونوں) میں تعریف اس کی ہے۔ } وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (الروم:۱۹) { اور سب تعریف اس کی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ } تمام قرآن مجید پڑھ کر دیکھ لو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتی حمد کا ذکر علی الاطلاق کیا ہے۔ کسی فاعل یا زمانہ سے اس کو مقید نہیں کیا۔ ہاں اپنی تسبیح اپنی مخلوق کی طرف منسوب فرمائی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ ہر مخلوق اپنی فطرت نوعی سے اس کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس لئے ہماری حمد کی ماہیت بھی صرف تنزیہی ہے۔ یعنی ہم اس کی جو حمد کرتے ہیں اپنی حالت صفاتی پر قیاس کر کے کرتے ہیں، نہ کہ اس کی صفات کاملہ کے لحاظ سے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی حمد کو کسی مخلوق کی طرف منسوب کیا ہے تو يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ کہہ کر منسوب کیا ہے۔ یعنی ایسی حمد جو سبیحی ہے اور ہر شئے کی مخصوص حالت کے مناسب حال ہے۔ جب کسی اپنی حمد کا ذکر فرمایا تو ایسے الفاظ میں فرمایا جو ہر شئے کی حالت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مادی اشیا سے متعلقہ تصورات ذہنی کبھی مطابق واقعہ نہیں ہوئے تو وراء الوراء ہستی کا تصور مطابق واقعہ کہاں ہو سکتا ہے۔ کیا اچھا فرمایا ہے امیر مینائی نے زاہد سے یہ کہہ دو جو ترے فہم میں آئے وہ سب ہے تر اوہم خدا اور ہی کچھ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمواتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيُهِنَّ، وَإِنْ مِنْ شَيْء إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ، إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ۔ (بنی اسرائیل: ۴۵) { اُس کی تسبیح کر رہے ہیں سات آسمان اور زمین اور جو کچھ اُن میں ہے اور کوئی چیز نہیں مگر وہ اُس کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہی ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ تم اُن کی تسبیح کو سمجھتے ہیں کو سمجھتے نہیں۔ وہ یقیناً بہت بُردبار اور بہت بخشنے والا ۔ بخشنے والا ہے۔}