صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 194 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 194

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۹۴ ١٠ - كتاب الأذان بِحَمْدِک۔۔۔اپنے اندر پوری حقیقت رکھتا ہے۔اس لئے مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ سے یہی مراد ہے کہ وہ اپنے اس اقرار میں ترقی کرتے کرتے اس مقام معرفت پر پہنچ جائے کہ اس کا یہ اقرار حمد ملائکہ کی حمد کی طرح ہو جائے اور خالق کا ارادہ اس کا ارادہ ہو جائے اور اس کے افعال نفس کے ارادے سے نہیں بلکہ ملائکہ کی طرح يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (التحریم:۷) اور وہی کرتے ہیں جو وہ حکم دیے جاتے ہیں۔) کا مصداق ہوں۔سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ جب انسان اس مقامِ حمد پر پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہے اور اس سے ہم کلام ہوتا اور کہتا ہے: لَا تَخَافَ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ و ارى (طه:۴۷) { تم ڈرو نہیں۔یقینا میں تم دونوں کے ساتھ ہوں۔سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔} سَمِعَ اللَّهُ لِمَنُ حَمِدَہ میں مَن سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں اور ان میں سے جس نبی نے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑھ کر حمد کی اور جس کی سب سے زیادہ سنی گئی وہ ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور امام اپنی نمازوں میں بار بار مقتدیوں کو آپ کی حمد اور آپ کی استجابت دعا کی طرف ان الفاظ سے متوجہ کرتا ہے کہ وہ آپ کی طرح حمد کریں، تا ان کی دعائیں بھی مستجاب ہوں۔بعض کہتے ہیں: اسلام کا خدا چاپلوسی پسند کرتا ہے اور جب تک اس کی تعریف اور چاپلوسی نہ کی جائے وہ کسی کی نہیں سنتا۔(نعوذ باللہ من ذلک) ایسے لوگ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اور حمد کی حقیقت سے نا آشنا ہیں۔وہ ذات جو سراسرحد ہے اس کی صفات کا طبعی تقاضا یہی ہے کہ اس کی حمد ہو۔جیسا کہ فی الواقعہ اس کی حمد آسمانوں میں بھی ہو رہی ہے۔زمین میں بھی ہو رہی ہے۔ہر ایک مخلوق زبان حال سے اس کی ستائش کر رہی ہے۔پس انسان اس بات میں ممتاز ہے کہ وہ بالا رادہ کام کرنے والا وجود بنایا گیا ہے۔اگر یہ مطالبہ اس سے بھی ہو کہ وہ علی وجہ البصیرت حال و قال دونوں سے اللہ تعالیٰ کی حمد کا اقرار و اعلان کرے تو یہ مطالبہ چاپلوسی پر نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے اور خود اس کی حیثیت کو ممتاز بنانے والا ہے۔انسان میں یہ طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات سے رنگین ہو۔ان کا شاہد ناطق ٹھہرے۔یہی نہیں بلکہ وہ ایک مستنطق کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔جو تمام مخلوقات کی شہادتیں قلم بند کر کے ان کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید پر بطور شاہد کے پیش کرتا چلا جارہا ہے۔یہ سارا جہان اسی انسانی مستنطق کی وجہ سے ہی عالم یعنی اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کی تجلی گاہ کی حیثیت سے نمایاں ہورہا ہے۔غرض نادان ہے وہ انسان جو اعتراض کرتا ہے کہ اسلام کا خدا چاپلوسی کی خاطر اپنے متبعین سے چاہتا ہے کہ اس کی ستائش کی جائے۔اسلام کا خداوہ خدا ہے جو اپنی ذات کی نسبت اپنے کلام میں فرماتا ہے: وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (التغابن: ۷) کہ وہ تمام صفات محمودہ سے متصف ہے اور لوگوں کی ستائش سے بے نیاز۔اور فرماتا ہے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام: ۱۰۴) یہ بینائیاں اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں۔وہ خودان بینائیوں کی اس کمزوری کا تدارک کرتا اور اُن تک آپ پہنچتا اور صفاتی تجلی سے ان کو اپنی معرفت عطا کرتا ہے۔تب زبان اس کی حمد کے ساتھ گویا ہوتی ہے۔