صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 193 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 193

صحيح البخاري - جلد ٢ ۱۹۳ ١٠ - كتاب الأذان الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ملائکہ کے قول کے مطابق ہو جائے گا اس کے جو گناہ اطرافه ۳۲۲۸ تشریح: پہلے ہو چکے ہیں ان کی مغفرت کی جائے گی۔فَضْلُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ : سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ۔یعنی سن لی اللہ نے اس محن خص کی جس نے اس کی حمد کی۔امام کے یہ الفاظ مقتدیوں کے لئے ترغیبی اعلان ہیں۔اس امر کا کہ وہ سجدوں میں جی کھول کر دعا کریں۔کیونکہ اس اعلان میں سمع اللہ کہ کر اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بحالت سجود قبولیت دعا کا موقع بھی زیادہ ہوتا ہے۔فَمِنْ أَن يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے تشریح روایت نمبر ۷۹۴۔سورۃ فاتحہ کا پہلا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد پر مشتمل ہے اور رکوع میں بھی اسی حمد کا اعادہ کیا گیا ہے اور امام کے اس اعلان پر بھی تمام مقتدی رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (یعنی اے ہمارے رب تیری ہی حمد ہے ) کہتے ہیں۔گو یہ اقرار ایک نمازی کے لئے الف ب پڑھنے کی حیثیت رکھتا ہے۔مگر راہ سلوک پر چلنے کے لئے اس ابتدائی مرحلے سے گزرنا ضروری ہے۔مومن کا ایک یہ اقرار حمد ہے جو وہ ابتدائی حالت میں کرتا ہے اور ایک وہ اقرار حمد ہے جو وہ اپنے روحانی ارتقاء کے اوج پر پہنچ کر کرتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَاخِرُ دَعْوَاهُمْ آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔(یونس: ۱۱) { اور ان کا آخری اعلان یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ان دونوں اقراروں میں بڑا فرق ہے۔پہلا اقرار ایمان بالغیب پر مبنی ہے اور دوسرا اقرار علی وجہ البصیرت۔دونوں حالتوں میں یہ اقرار حمد ہی کہلاتا ہے۔لیکن ترقی پذیر حمد حقیقت پر مبنی ہوتی ہے اور اپنے آثار میں نرالی شان رکھتی ہے۔جیسے جیسے انسان صفات الہیہ سے متعلق عرفان حاصل کرتا جاتا ہے ویسے ویسے میلان گناہ اس کے نفس سے دور ہوتا جاتا ہے۔یہ مفہوم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مَنْ وَّافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ کا۔کیونکہ ملائکہ کا اقرار تسبیح وتحمید کامل تزکیہ نفس کو چاہتا ہے اور حضور کا یہ ارشاد کامل معرفت کے حصول کی بھی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ ملائکہ کا اقرار؛ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقره: ۳۱) یعنی ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تقدیس کرتے ہیں تحری کے رنگ میں ہے جو معرفتِ کاملہ پر دلالت کرتا ہے۔ان کی فطرتیں بے اختیار تسبیح و تقدیس کر رہی ہیں۔پس جب انسان کی تسبیح وتحمید ملائکہ کی تسبیح وتحمید کے موافق و مشابہ ہو جائے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ اس کا تزکیہ کما حقہ ہو اور اس کی معرفت بھی ان کی معرفت سے مشابہ ہو جائے۔معرفت کے بغیر گناہ سے نجات نہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کشتی نوح صفحہ ۷۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۲۸) سُبْحَانَ مصدر ہے جس کا نہ کوئی فاعل معین ہے اور یہ نہ زمانہ سے محدود ہے اور نہ اس میں کوئی قلت و کثرت کا مفہوم ہے۔بلکہ جامع ہے سب معانی کا۔سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ میں تسبیح وتحمید کو اس لئے مطلق رکھا گیا ہے کہ ابتدائی حالت میں انسان کا یہ کہنا کہ میں تیری حمد کرتا ہوں بلحاظ حقیقت کوئی معنی نہیں رکھتا۔مگر ملائکہ کا یہ دعویٰ کہ نَحْنُ نُسَبِّحُ