صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 4
حيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابوقلابہ سے قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ لَمَّا كَثُرَ ابو قلابہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔النَّاسُ قَالَ ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوْا وَقْتَ انہوں نے کہا: جب لوگ زیادہ ہو گئے ، لوگوں نے الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُوْنَهُ فَذَكَرُوْا أَنْ ذکر کیا کہ وہ اوقات نماز کے لئے کوئی نشان مقرر يُوْرُوْا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوْا نَاقُوْسًا فَأُمِرَ کرلیں۔جس سے وہ وقت معلوم کریں۔انہوں نے بِلَالٌ أَنْ يُشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوْتِرَ مشورہ کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں۔تو حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ وہ الفاظ اذان دو دفعہ الْإِقَامَةَ۔اطرافه: ٦٠٣، 605، 607، 3457۔کہیں اورا قامت میں ایک ہی بار۔بَاب ۳ : الْإِقَامَةُ وَاحِدَةً إِلَّا قَوْلَهُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ اقامت ایک ہی بار ہے۔سوائے الفاظ قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کے ٦٠٧: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۶۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس سے بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوْتِرَ روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ الْإِقَامَةَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَكَرْتُ وه الفاظ اذان دہرائیں اور اقامت ایک ہی بار کہیں۔اسماعیل نے کہا کہ پھر میں نے ایوب سے ذکر کیا تو لِأَتُوْبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ۔اطرافه : ٦٠٣ ، ٦٠٥، ٦٠٦، ٣٤٥٧۔تشریح: انہوں نے کہا: سوائے الفاظ اقامت کے۔الْأَذَانُ مَثْنى مَثْنَى : اذان لوگوں کو بلانے کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے اس میں آواز بلند کرنے اور الفاظ دہرانے کا حکم ہے اور تکبیر اقامت سے جمع شدہ نمازیوں کو باجماعت نماز پڑھنے کی اطلاع دی جاتی ہے۔اس لئے اس میں آواز بلند کرنے اور الفاظ دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔سوائے الفاظ قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کے جنہیں دہرانے کا حکم ہے۔کیونکہ یہی اطلاعی کلمات مقصود بالذات ہیں۔جنہیں سن کر ہر قسم کی نفلی نماز اور کام کاج کو چھوڑ نا ہوتا ہے۔