صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 192 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 192

صحيح البخار جلد ۲ ۱۹۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٢٤: مَا يَقُولُ الْإِمَامُ وَمَنْ خَلْقَهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكُوعِ امام اور وہ جو اُس کے پیچھے ہوں جب رکوع سے سر اٹھا ئیں تو کیا کہیں ٧٩٥: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ :۷۹۵ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا : ابن ابی أَبِي ذِلْبٍ عَنْ سَعِيْدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید مقبری سے، هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سعید نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کہ انہوں نے إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ النَّبِيُّ حَمِدَهُ کہتے تو اس کے بعد یہ پڑھتے اَللَّهُمَّ رَبَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا وَلَكَ الْحَمْدُ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ کرتے اور جب سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے تب بھی اللہ اکبر السَّجْدَتَيْنِ قَالَ اللهُ أَكْبَرُ۔اطرافه ۷۸۵، ۷۸۹، ۸۰۳ تشریح: کہتے۔اسلامی نماز کے اس حصے کی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے تین شقیں ہیں تسہی ، تحمید اور تکبیر۔تسبیح نقائص سے پاک ٹھہرانا تحمید صفات اعلیٰ سے متصف قرار دینا۔تکبیر سب سے بڑا یقین کرنا۔باب ١٢٥ : فَضْلُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہنے کی فضیلت ٧٩٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :٧٩۶: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ سُمَيِّ عَنْ أَبِي کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سمی سے ہمی نے صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ ابو صالح سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا فرمایا: جب امام سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ كهو اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ۔کیونکہ جس کا قول