صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 191
صحيح البخاری جلد ۲ 191 ١٠ - كتاب الأذان فَعَظِمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنْ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ - (مسلم۔كتاب الصلوة باب النهي عن قرأة القرآن في الركوع والسجود یعنی رکوع میں تو تم رب کی عظمت بیان کرو اور سجدوں میں دعاؤں پر زور دو سجدہ کی دعائیں قبول ہونے کے لائق ہیں۔مگر اس حدیث میں تعظیم کا ذکر ہے۔دعا کی ممانعت نہیں تسبیح وتحمید و تعظیم دعا کے ساتھ جمع ہوسکتی ہیں۔جیسا کہ امام موصوف نے مذکورہ بالا روایت پیش کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔امام مسلم کی حدیث سے دعا نہ کرنے سے متعلق استدلال نہیں کیا جاسکتا۔قیام ورکوع وسجود و جلسہ وغیرہ ہر رکن میں دعا کی جاسکتی ہے۔سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا پاک ذات ہے تیری اے اللہ ! جو ہمارا رب ہے۔وَبِحَمْدِكَ اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی اے اللہ تو میری مغفرت فرما۔یہ تسبیح و تحمید و استغفار قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہے: وَاسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَ سَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ (المؤمن: ۵۶) اور اپنی بھول چوک کے تعلق میں استغفار کر اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو بھی تسبیح کر اور صبح بھی۔} قرآن مجید میں جہاں بھی تسبیح کاحکم دیا گیا ہے وہاں بِحَمدِ رنگ فرما کر حمید کا بھی حکم دیا ہے۔تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک اور ہر عیب سے منزہ ومبراء ہے اور تحمید کے معنی ہیں کہ وہ تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہے۔تسبیح میں نفی کا پہلو ہے اور تحمید میں اثبات کا۔محض نقائص کی نفی کوئی خوبی نہیں ، جبکہ اس کے ساتھ صفات عالیہ کا بھی اظہار نہ ہو۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ) بنی اسرائیل (۴۵) ہر شئے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہے۔( اس تشریح کی تفصیل کے لئے دیکھئے گشتی نوح - صفحہ ۳۴ تا ۴۷ - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفه ۳۲ تا ۴۵) انسان سے جو بالا رادہ کام کرنے والی ہستی ہے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی اور مخلوق کی طرح تسبیح وتحمید میں مشغول ہو۔مگر وہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کے لائق نہیں ہوتا۔جب تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر آئینہ دار موردِ تجلیات الہیہ نہیں ہو جاتا۔یہی وجہ ہے کہ اس کو تسبیح وتحمید کے ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی دیا گیا ہے۔انسان کو ایسی فطرت دی گئی ہے کہ وہ تزکیہ نفس حاصل کر کے صفات الہیہ کا آئینہ بنے اور اس کا وجود تسبیح وتحمید کا مظہر ہو۔فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنْ اَنْ يُسْتَجَابَ لَكُم رکوع اور سجود میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الاغلی کا وردنمازی کی زبان سے اس لئے دہرایا جاتا ہے کہ اس کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے رب کی تسبیح اور تحمید کے اقرار میں اسی وقت راستباز ٹھہرے گا جب وہ اپنے نفس کے اندر اسی قسم کی سبوحیت پیدا کرے جو ہر مخلوق میں ظاہر ہے۔ہر شئے اپنی زبانِ حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اس کا خالق سبوح و قدوس اور تمام محامد سے متصف ہے۔مگر انسان ابھی تک اس امر میں بہت ہی قاصر ہے اور اس قصور کی وجہ سے ہی ملا ئکتہ اللہ کو کہنا پڑا کہ اس سفاک و مفسد انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔