صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 191 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 191

صحيح البخاری جلد ۲ ة باب النهي عن قرأ ۱۹۱ ١٠ - كتاب الأذان فَعَظِمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ - (مسلم۔ كتاب الصلوة۔ قرأة القرآن في الركوع والسجود) یعنی رکوع میں تو نے ع میں تو تم رب کی عظمت بیان کرو اور سجدوں میں دعاؤں پر زور دو۔ سجدہ کی دعائیں قبول ہونے کے لائق ہیں۔ مگر اس حدیث میں تعظیم کا ذکر ہے۔ دعا کی ممانعت نہیں ۔ تسبیح و تحمید و تعظیم دعا کے ساتھ جمع ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ امام موصوف نے مذکورہ بالا روایت پیش کر کے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام مسلم کی حدیث سے دعا نہ کرنے سے متعلق استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ قیام و رکوع و سجود و جلسہ وغیرہ ہر رکن میں دعا کی جاسکتی ہے۔ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا پاک ذات ہے تیری اے اللہ ! جو ہمارا رب ہے۔ وَبِحَمْدِی اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِی اے اللہ تو میری مغفرت فرما۔ یہ تسبیح و تحمید و استغفار قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہے: وَاسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ (المؤمن: ۵۶) اور اپنی بھول چوک کے تعلق میں استغفار کر اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو بھی تسبیح کر اور صبح بھی۔} قرآن مجید میں جہاں بھی تسبیح کا حکم دیا گیا ہے وہاں بِحَمْدِ رَبِّكَ فرما کر تحمید کا بھی حکم دیا ہے۔ تسبیح ۔ ہا ہے۔ تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک اور ہر عیب سے منزہ و مبراء ہے اور تحمید کے معنی ہیں کہ وہ تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہے۔ تسبیح میں نفی کا پہلو ہے اور تحمید میں اثبات کا۔ محض نقائص کی نفی کوئی خوبی نہیں ، جبکہ اس کے ساتھ صفات عالیہ کا بھی اظہار نہ ہو۔ قرآن مجید فرماتا ہے: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ( بنی اسرائیل : ۴۵) ہر شئے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہی ہے۔ (اس تسبیح کی تفصیل کے لئے دیکھئے کشتی نوح - صفحہ ۳۴ تا ۴۷ - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۲ تا ۴۵ ) انسان سے جو بالا رادہ کام کرنے والی ہستی ہے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی اور مخلوق کی طرح تسبیح وتحمید میں مشغول ہو۔ مگر وہ صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کے لائق نہیں ہوتا ۔ جب تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر آئینہ دار مورد تجلیات الہیہ نہیں ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو تسبیح و تحمید کے ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ انسان کو ایسی فطرت دی گئی ہے کہ وہ تزکیہ نفس حاصل کر کے صفات الہیہ کا آئینہ بنے اور اس کا وجود تسبیح و تحمید کا مظہر ہو۔ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنْ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُم رکوع اور سجود میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الاعلی کا ورد نمازی کی زبان سے اس لئے دہرایا جاتا ہے کہ اس کو توجہ دلائی جائے کہ وہ اپنے رب کی تسبیح اور تحمید کے اقرار میں اسی وقت راستباز ٹھہرے گا جب وہ اپنے نفس کے اندر اسی قسم کی سبوحیت پیدا کرے جو ہر مخلوق میں ظاہر ہے۔ ہر شئے اپنی زبانِ حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اس کا خالق سبوح وقد وس اور تمام محامد سے متصف ہے۔ مگر انسان ابھی تک اس امر میں بہت ہی قاصر ہے اور اس قصور کی وجہ سے ہی ملائکہ اللہ کو کہنا پڑا کہ اس سفاک و مفسد انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔