صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 187
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۷ ۱۰ - كتاب الأذان کیا کرتے تھے مگر بعد میں ہم روک دیئے گئے ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۵۴) یہی اشکال دور کرنے کے لئے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ ضبط حرکات میں بہت تساہل سے کام لیا جاتا ہے۔ بحالیکہ نماز میں جسمانی اعضاء کے برمحل رکھنے اور رکوع و سجود و دیگر ارکان میں تنظیم و تعدیل اور ضبط حرکات و سکنات سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام اور اس بارے میں آپ کے تاکیدی ارشادات بر ارشادات بڑی حکمت پر مبنی ہیں۔ جسمار پر بنی ہیں۔ جسمانی حرکات کا اعتدال و انضباط توجہ اور جدو جہد چاہتا ہے اور بالتکرار تدریجاً قوت ارادیہ کے نشو و نما اور اس کی تقویت میں محمد ہو جاتا ہے۔ قوت ارادہ کی مضبوطی یا کمزوری اخلاقی تربیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ارادہ کی مضبوطی ہی سے ضبط نفس پر قدرت حاصل ہوتی ہے۔ اور اعضاء کی تمام حرکات و سکنات میں اعتدال نفسانی و روحانی حالات پر نہایت گہرا اثر پیدا کرنے کا موجب ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی سوال اول کا جواب تیسری حالت نفس مطمئنه صفحه ۲۴ تا ۲۳- روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۹ تا ۳۳۷ بَاب ۱۱۹ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ اگر رکوع پورے طور پر نہ کرے ۷۹۱: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ۷۹۱ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان سے مروی ہے ۔ انہوں نے سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبِ قَالَ رَأَى کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ حضرت حذیفہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع اور وَالسُّجُودَ قَالَ مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ سجدے پورے طور پر نہیں کرتا تھا۔ تو انہوں نے کہا: تم مُنَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ الله نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تم مرجاؤ تو تم ایسی فطرت پر مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ مرو گے جو اس فطرت کے خلاف ہے، جس پر اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ اطرافه: ۳۸۹، ۸۰۸ تشريح : إِذَا لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ : باب نبر ۱۲ میں بھی یہی مضمون ہے۔ اور اس میں ادا کا جواب وضاحت الامام سے دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جو رکوع پورے طور پر نہیں کرتا تھا، نماز دہرانے کا حکم دیا۔ یہاں جواب مقدر کیا گیا ہے لیکن محولہ بالا روایت نمبر ۷۹۳ میں حکم واضح ہے۔ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ : فطرت سے مراد سنت ( طریق) ہے۔ یہ روایت باب نمبر ۱۳۲: إِذَا لَمْ يُتِمَّ