صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 187 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 187

IAZ ١٠ - كتاب الأذان صحيح البخاری جلد ۲ کیا کرتے تھے مگر بعد میں ہم روک دیئے گئے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴ ۳۵) یہی اشکال دور کرنے کے لئے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ضبط حرکات میں بہت تساہل سے کام لیا جاتا ہے۔بحالیکہ نماز میں جسمانی اعضاء کے برمحل رکھنے اور رکوع و سجود و دیگر ارکان میں تنظیم و تعدیل اور ضبط حرکات و سکنات سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام اور اس بارے میں آپ کے تاکیدی ارشادات بڑی حکمت پر مبنی ہیں۔جسمانی حرکات کا اعتدال و انضباط توجہ اور جدوجہد چاہتا ہے اور بالتکرار تدریجی قوت ارادیہ کے نشو ونما اور اس کی تقویت میں ممد ہو جاتا ہے۔قوت ارادہ کی مضبوطی یا کمزوری اخلاقی تربیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ارادہ کی مضبوطی ہی سے ضبط نفس پر قدرت حاصل ہوتی ہے۔اور اعضاء کی تمام حرکات وسکنات میں اعتدال نفسانی و روحانی حالات پر نہایت گہرا اثر پیدا کرنے کا موجب ہے۔اس تعلق میں دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی۔سوال اول کا جواب- تیسری حالت نفس مطمئنه صفحه ۴ تا ۲۳- روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۹ تا ۳۳۷۔بَابِ ۱۱۹ : إِذَا لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوْعَ اگر رکوع پورے طور پر نہ کرے ۷۹۱: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ :۷۹۱: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، کہا: شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔سلیمان سے مروی ہے۔انہوں نے سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ رَأَى کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ حضرت حذیفہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع اور وَالسُّجُوْدَ قَالَ مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ سجدے پورے طور پر نہیں کرتا تھا۔تو انہوں نے کہا: تم مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ الله نے نماز نہیں پڑھی۔اگر تم مر جاؤ تو تم ایسی فطرت پر مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔مرو گے جو اس فطرت کے خلاف ہے، جس پر اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔اطرافه: ۳۸۹، ۸۰۸ تشریح إذَا لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ : باب نمبر ۱۲۲ میں بھی یہی مضمون ہے۔اور اس میں اذا کا جواب وضاحت سے دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جور کوع پورے طور پر نہیں کرتا تھا، نماز دہرانے کا حکم دیا۔یہاں جواب مقدر کیا گیا ہے لیکن محولہ بالا روایت نمبر ۷۹۳ میں حکم واضح ہے۔مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ : فطرت سے مراد سنت ( طریق) ہے۔یہ روایت باب نمبر ۱۳۲: إِذَا لَمْ يُتِمَّ