صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 186
صحيح البخاری جلد ۲ JAY ١٠ - كتاب الأذان تشریح صلى الله التَّكْبِيرُ إِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ : روایت نمبر ۷ ۷۸ کے یہ الفاظ أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلوةَ النَّبِيِّ ہ بھی اسی سنت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔لا اُم لک کا محاورہ قلت تربیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہ ہلکی سی تنبیہ بھی ہے۔روایت نمبر ۸۸ے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تنبیہ کیوں کی گئی۔عکرمہ نے اس امام کو بیوقوف کہا تھا۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بوڑھے حضرت ابو ہریرہ تھے اور ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں ہر رکعت میں پانچ تکبیریں اور ان کے علاوہ دو تکبیریں، تکبیر تحریمہ اور پہلی التحیات سے اٹھنے کی تکبیر۔یہ کل بائیں ہوئیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۳۵۲) روایت نمبر ۷۸۹ میں اس کی تفصیل موجود ہے۔نیز اس ضمن میں تشریح باب ۱۲۲ بھی دیکھئے۔بَاب ۱۱۸ : وَضْعُ الْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي أَصْحَابِهِ أَمْكَنَ اور ابوحمید نے اپنے ساتھیوں کے سامنے کہا: نبی صلی النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ الله علیہ وسلم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر جما کر رکھتے تھے۔۷۹۰: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ ۷۹۰: ابو الولید ( ہشام بن عبدالملک ) نے ہم سے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي يَعْفُوْرٍ قَالَ بِیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ابو یعفور ( وفقدان سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ اکبر ) سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: میں نے صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ مصعب بن سعد سے سنا۔کہتے تھے: میں نے اپنے كَفَّيَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ فَنَهَانِي باپ کے پہلو میں نماز پڑھی۔میں نے ( رکوع میں ) أَبِي وَقَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِيْنَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا دونوں ہتھیلیاں ملادیں۔پھر رانوں کے درمیان أَنْ نَّضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَب۔رکھیں۔میرے باپ نے مجھے منع کیا اور کہا کہ ہم بھی تشریح: اسی طرح کیا کرتے تھے۔پھر ہمیں روک دیا گیا اور ہمیں حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔وَضْعُ الْاَكْتِ عَلَى الرُّكَبِ : ہاتھ ملا کر رانوں کے درمیان رکھنے سے متعلق شاذ روایتیں مسلم وتر ندی میں منقول ہیں۔مگر جیسا کہ ابن منذر نے قوی سند سے حضرت ابن عمر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی دفعہ ایسا کیا تھا اور ابن خزیمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے نقل کیا ہے کہ ہم پہلے ایسا