صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 3
صحيح البخاری جلد ۲ سم ١٠ - كتاب الأذان کی تھا۔ خواہ آپ کی یہ وحی جلی ہو یا خفی۔ شریعت کے معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض کسی کی رائے یا خواب پر کوئی حکم نہیں دیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر نے حجاب سے متعلق بالتکرار عرض کیا۔ مگر جب تک آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صریح حکم نہیں ملا، آپ نے حجاب کے بارے میں کوئی پابندی عائد نہیں فرمائی۔ پس یہ ممکن ہے کہ دوسروں کو بھی خوا میں آئی ہوں ۔ مگر آپ کا اذان کے لئے حکم دینا وحی الہی پر مبنی تھا۔ جس کی تائید حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمرؓ وغیرہ صحاب خوابوں سے بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ عبدالرز ہے۔ چنانچہ عبدالرزاق وابوداؤد نے ایک روایت بھی نقل کی ہے کہ جب کی ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت بلال کی اذان سنی تو وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی خواب کا ذکر کیا۔ تو آپ نے فرمایا : سَبَقَكَ بِذَلِكَ الْوَحْى یعنی آپ سے پہلے وحی اس کی بابت ہو چکی ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۰۹) مفصل بحث کے لئے دیکھئے: شرح الزرقانی على مؤطا إمام مالك۔ كتاب النداء للصلاة في كتاب الطهارة)۔ باب ماجاء في النداء للصلاة - جزء اول صفحہ ۱۹۸۔ خود اذان کے الفاظ بھی ایک ابلغ ترتیب اور جامع مضمون اپنے اندر رکھتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ یہ انسانی دماغ کا اختراع نہیں۔ اس کا مختصر ذکر باب نمبر ۹ (کتاب الاذان ) میں ہوگا۔ بَاب ۲ : الْأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى اذان کے الفاظ دو دو بار ٦٠٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۶۰۵ سليمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سماک بن بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عطیہ سے، سماک نے ایوب سے، ایوب نے ابو قلابہ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ سے، ابو قلابہ نے حضرت انس سے روایت کی ۔ کہا: حضرت بلال کو حکم دیا گیا کہ وہ الفاظ اذان دو دو بار وَأَنْ يُوْتِرَ الْإِقَامَةَ إِلَّا الْإِقَامَةَ۔ کہیں اور اقامت میں ایک ہی بار ، سوائے الفاظ اطرافه : ٦٠٣، ٦٠٦، 607، 3457۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کے۔ ٦٠٦ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَامٍ ۶٠٦: محمد بن سلام نے مجھ سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ { الثَّقَفِيُّ } عبد الوہاب ( ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ کہا: خالد حذاء (مصنف عبد الرزاق ۔ كتاب الصلاة۔ باب بدء الأذان۔ روایت نمبر ۱۷۷۵) المراسيل لأبي داؤد ۔ ما جاء في الأذان ۔ روایت نمبر (۲۰) لفظ الثقفي فتح الباری کی طبعہ بولاق اور انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۰۹)