صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 181 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 181

صحيح البخاری جلد ۲ IAI ١٠ - كتاب الأذان شریح: جَهْرُ الْمَأْمُومِ بِالتَّأْمِينِ : مقتدی کے بآواز آمین کہنے سے متعلق بھی اختلاف کیا گیا ہے۔امام بخاری نے باب ۱۱۳ میں جَهْرُ الْمَأْمُومِ بالامین کا عنوان قائم کر کے اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔محولہ بالا حدیث نمبر ۷۸۲ میں مقتدی کے بآواز آمین کہنے کا ذکر نہیں۔امام موصوف نے روایت نمبر ۷۸۰ سے ضمنا استدلال کیا ہے : إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَآمِنُوا۔یعنی جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔جب تک امام بآواز آمین نہیں کہے گا مقتدیوں کو علم نہیں ہو سکتا۔چونکہ مقتدیوں پر امام کی اتباع ضروری ہے، اس لئے اس کو بھی آمین بالجبر کہنا ہوگا۔غالبا اس استدلال پر مذکورہ بالاعنوان قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۴۵) جس کی تائید دوسرے حوالوں سے بھی کی گئی ہے۔محمد بن عمرو اور نعیم کے حوالوں کی تفصیل فتح الباری جزء ثانی صفحہ نمبر ۳۴۵ تا ۳۴۶ میں دیکھئے۔دل میں یاباً واز آمین کہنے کی بحث جو بعض لوگوں کی طرف سے اٹھائی گئی ہے فضول ہے۔کوئی آمین بالجبر پر زور دیتا ہے اور کوئی آمین بالخفاء پر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں باتیں ثابت ہیں۔آپ نے دل میں بھی آمین کہی اور بآواز بھی۔موقع محل کی مناسبت اور معنویات کے طبعی تقاضا سے آپ نے ایسا کیا۔دعا میں انسان بعض وقت بے قرار اور جزع فزع میں بے اختیار ہوتا ہے۔ایسی حالت میں اس کی آواز بلند ہو جاتی ہے اور بعض وقت سکون وطمانیت کا پیکر بن جاتا ہے۔زبان تک نہیں ملتی۔ایک پر کیف عالم میں وہ مست والست کھڑا ہوتا ہے۔رواں رواں اس کا دعا ہوتا ہے۔اس حالت میں آمین بلند آواز سے کہنا طبعی تقاضا کے خلاف ہوگا۔پہلے اپنے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی معنویات پیدا کرو اور پھر چاہے آمین بالجہر کہو یا بالخفاء - کامل مسلمان وہی ہے جو اپنے اندر اپنے امام و مقتداء کی مختلف نفسی کیفیات پیدا کر کے جیسا تقاضائے حالت ہو آپ کے اسوۂ حسنہ کی اتباع کرے۔جھوٹی نقل نہ ہو نہ آمین بالجہر میں اور نہ آمین بالخفاء میں۔بَاب ١١٤: إِذَا رَكَعَ دُوْنَ الصَّتِ اگر صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کر دے ۷۸۳: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ :۷۸۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنِ الْأَعْلَمِ وَهُوَ زِيَادٌ کہا: ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعلم سے جو زیاد بن حسان ) ہیں۔اعلم نے حسن سے حسن نے حضرت ابوبکرہ سے روایت کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ رکوع میں تھے تو رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّتِ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ انْتَهَى