صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 182
صحيح البخاری جلد ۲ IAM ١٠ - كتاب الأذان فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کر دیا اور اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو وَسَلَّمَ فَقَالَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْضًا وَلَا تَعُدْ آپ نے فرمایا: اللہ آپ کو نیکی کی حرص اور زیادہ دے۔پھر ایسا نہ کرنا۔تشریح: إذَا رَكَعَ دُونَ الصَّفِ : مسئلہ معنونہ بھی اختلافی ہے۔امام مالک اور بہت سے دیگر فقہاء جائز سمجھتے ہیں کہ اگر مسجد میں داخل ہونے والا سمجھے کہ صف میں شامل ہونے تک امام رکوع سے کھڑا ہو جائے گا تو وہ جہاں ہے وہیں رکوع کرلے اور پھر ایسی حالت میں صف کے ساتھ جاملے۔امام شافعی اس کو مکروہ سمجھتے ہیں۔امام ابو حنیفہ اکیلے شخص کے لیے مکروہ سمجھتے ہیں۔لیکن اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ان کے نزدیک ایسا کرنا جائز ہے۔محولہ بالا حدیث سے امام شافعی کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرہ کے شوق کو سراہا اور وعادی۔مگر آئندہ کے لئے ممانعت فرما دی۔نماز میں طمانیت و وقار ومتانت کی اشد ضرورت ہے اور یہ فعل ان باتوں کے منافی ہے۔باب ١١٥ : إِثْمَامُ التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ اللہ اکبر کورکوع میں پورا کرنا قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَفِيْهِ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ۔بات نقل کی اور حضرت مالک بن حویرث نے بھی اس بارہ میں روایت کی ہے۔٧٨٤: حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ ۷۸۴ اسحاق ( بن شاہین ) واسطی نے ہم سے قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الْجُرَيْرِي عَنْ بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جریری أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُّطَرفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْن سے، جویری نے ابوالعلاء سے، ابوالعلاء نے مطرف حُصَيْنٍ قَالَ صَلَّى مَعَ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ ، مطرف نے حضرت عمران بن حصین سے روایت سے عَنْهُ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ ذَكَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ کی، کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صَلَاةٌ كُنَّا نُصَلِّيْهَا مَعَ رَسُول اللَّهِ ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: اس شخص صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ نے ہمیں وہ نماز یاد دلا دی ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا وَضَعَ اطرافه ٧٨٦، ٨٢٦ جب سر جھکاتے یا اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔