صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 180 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 180

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۸۰ ١٠ - كتاب الأذان السَّمَاءِ آمِيْنَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا کہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کے مطابق ہو الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔جائیں تو جو گناہ اس سے پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔تشریح : فَضْلُ التَّأمِينِ : باب ۱۱ ۱۱۳ کے درمیان باب ۱۱۲ قائم کرنے سے یہی مقصود ہے کہ فضیلت سے ایک کو محروم رکھنا اور دوسرے کو مستفید کرنا معقول بات نہیں۔پہلی روایت (نمبر ۷۸۰ ) میں امام کے آمین کہنے کا صریح ذکر ہے اور دوسری روایت (نمبر ۷۸ ) میں ہر نمازی کے آمین کہنے کا۔پس بغیر کسی خاص وجہ کے ایک روایت کو اختیار کرنا ترجیح بلا مرجح ہے۔باب ۱۱۳ : جَهْرُ الْمَأْمُوْمِ بِالتَّأْمِيْنِ مقتدی کا بآواز آمین کہنا ۷۸۲: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۷۸۲: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَّالِكَ عَنْ سُمَيّ مَوْلَى أَبِي بَكْر نے مالک سے، مالک نے سمی ابوبکر ( بن عبد الرحمن ) عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ کے آزاد کردہ غلام سے ہمی نے ابو صالح (سمان) رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام غَيرِ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة: ٧) فَقُوْلُوْا آمِيْنَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو تم آمین کہو۔جس کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہو گیا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ) سمی کی طرح) محمد بن عمرو نے بھی ابوسلمہ سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُعَيْمُ الْمُجْمِرُ عَنْ أَبِي نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور نعیم مجمر نے بھی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم اطرافه: ٤٤٧٥۔تک پہنچاتے ہوئے ) روایت کی۔