صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 179
صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان تَأْمِيْنَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ بھی آمین کہو۔کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ذَنْبِهِ وَقَالَ ابْنُ شِهَابِ وَكَانَ رَسُولُ موافق ہوگی۔اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِيْنَ مغفرت کی جائے گی۔ابن شہاب نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آمین کہتے تھے۔اطرافه: ٦٤٠٢۔تشریح : جَهْرُ الْاِمَامِ بِالتَّأْمِينِ : آمین کے معنی میں الہی قبول فرمایا ایسا ہی ہو۔یہ بھی دعائیہ کلمہ ہے۔مالکیوں کا خیال ہے کہ مقتدی ہی کو آمین کہنی چاہیے۔امام کو نہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۶) یہ خیال رڈ کرنے کے لئے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔عطاء کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ آمین دعا ہے، جو امام بھی کرسکتا ہے اور مقتدی بھی۔اور صحابہ اس کو ضروری سمجھتے تھے اور اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے۔جس کی تعمیل ضروری ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ ملائکہ کی آمین کہنے سے قبولیت دعا کا جو موقع مقتدیوں کومل سکتا ہے۔اس سے امام محروم رکھا جائے۔جب بندہ الحاح وزاری اور دل کی بے قراری کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اس کی آمین کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے اور جونہی اللہ تعالیٰ کے حضور دعا قبول ہوتی ہے تو معا مشیت ایزدی ملائکہ پر اپنا پر تو ڈالتی ہے اور پھر ملکی تحریکوں کے تحت تمام متعلقہ اسباب کا رخ مقصد دعا کی طرف پھر جاتا ہے اس کے خاص فضل سے انسان کی معنویات میں انقلاب آنا شروع ہو جاتا ہے۔جس کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ سابقہ گناہوں کے اثرات مٹادیئے جاتے ہیں اور میلان گناہ کے سامنے ایک اور روک پیدا ہو جاتی ہے جس سے وہ یکسو ہو کر نیکی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔یہ حقیقت ہے لفظ مغفرت کی اور ملائکہ کے آمین کہنے اور نمازیوں کی آمین کے ان کی آمین سے موافق ہو جانے کی تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب بدء الخلق باب نمبر ۶۵۔جہاں مشیت الہی کے جبرائیلی انعکاس کی بحث کی گئی ہے۔بَابِ ۱۱۲ : فَضْلُ التَّأْمِيْنِ آمین کہنے کی فضیلت ۷۸۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۸۱: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ ) کہا : ) مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوزناد سے، الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الله سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِيْنَ وَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تم میں سے کوئی آمین کہے اور آسمان پر ملائکہ بھی آمین