صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 178
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۷۸ ١٠ - كتاب الأذان الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُقَصَرُ فِي کی پہلی رکعت میں قرآت لمبی کیا کرتے تھے اور الثَّانِيَةِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبح دوسری رکعت میں چھوٹی اور صبح کی نماز میں بھی ایسا اطرافه ٧٥٩ ٧٦٢، ۷۷٦، ۷۷۸ ہی کرتے۔تشریح: لوگ نماز میں شامل ہو جائیں اور یہ خیال معقول ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۳۳۹) يُطَوّلُ فِى الرَّكْعَةِ الأولى : بعض فقہاء کا یہ خیال ہے کہ پہلی رکعت اس لئے لمبی کی جاتی تھی کہ بَابِ ۱۱۱ : جَهْرُ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِيْنِ امام کا با واز آمین کہنا وَقَالَ عَطَاء آمِيْنَ دُعَاء أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ اور عطاء کہتے تھے: آمین دعا ہے۔(حضرت عبداللہ ) وَمَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةٌ بن زبیر نے اور جو اُن کے پیچھے تھے۔اس زور سے وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُنَادِي الْإِمَامَ لَا تَفْتَنِي آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی اور حضرت ابو ہریرہ امام کو بِآمِيْنَ وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَدَعُهُ آواز دیتے: (دیکھنا) میری آمین نہ جاتی رہے اور نافع وَيَحُضُهُمْ وَسَمِعْتُ مِنْهُ فِي ذَلِكَ خَيْرًا؟ کہتے تھے: حضرت ابن عمر آمین نہیں چھوڑتے تھے اور لوگوں کو ترغیب دیتے کہ آمین کہا کرو اور میں نے ان سے اس کے متعلق ایک حدیث بھی سنی ہے۔۷۸۰: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۷۸۰ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ ہے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عبد الرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے ابن أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شہاب کو بتایا: حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ نبی أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَّافَقَ تَأْمِيْتُهُ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ خیرا کی جگہ خبرًا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۳۳۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔