صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 177
صحيح البخاری جلد ۲ کے کیا بَاب ۱۰۹ : إِذَا أَسْمَعَ الْإِمَامُ الْآيَةَ اگر امام کوئی آیت سنائے ١٠ - كتاب الأذان ۷۷۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۷۷۸ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي ) کہا : ( اوزاعی نے ہمیں بتایا ( کہا : ) سمجھی بن ابی كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ کثیر نے مجھ سے بیان کیا ، (کہا :) عبداللہ بن ابی أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ بِام قادہ نے مجھے بتایا۔ان کے باپ سے مروی ہے کہ الْكِتَابِ وَسُوْرَةٍ مَّعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ نبي صلى الله علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دورکعتوں میں الْأَوْلَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظَّهْرِ وَصَلَاةِ سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورۃ پڑھا کرتے الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ تھے اور کبھی کبھی کوئی آیت بھی ہمیں سنا دیتے اور پہلی يُطِيْلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى۔اطرافه ٧٥٩ ٧٦٢، ٧٧٦، ٧٧٩۔تشریح رکعت میں قرآت لمبی کرتے تھے۔إِذَا اسْمَعَ الْإِمَامُ الْآيَةَ : باب ۰۵ اروایت نمبر ۷۷۴ میں گزر چکا ہے کہ آپ کا خاموش ہو کر پڑھنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امام ظہر و عصر کی نماز میں کوئی آیت آواز سے پڑھ دے تو کیا یہ فعل حکم الہی کے خلاف ہوگا ؟ روایت نمبر ۷۷۸ سے اس کا جواب ظاہر ہے۔ارشاد باری تعالى وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِيْفَةً (الاعراف: ۲۰۲) میں کوئی تحدید نہیں بلکہ عمومیت ہے۔آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تو اپنے نفس میں اپنے رب کو بجز اور خوف کے ساتھ یاد کیا کر۔باب ۱۱۰ : يُطَوّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى پہلی رکعت میں قرآت لمبی کرنا ۷۷۹: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ۷۷۹ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا ، (کہا :) عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سمجھی بن ابی کثیر أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله سے بچی نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر