صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 176 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 176

صحیح البخاری جلد ۲ ۱۷۶ ١٠ - كتاب الأذان باب ۱۰۸ : مَنْ خَافَتَ الْقِرَاءَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ جس نے ظہر اور عصر کی قرآت دل میں پڑھی ۷۷۷ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ۷۷۷ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قُلْتُ لِخَبَّابِ نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے ابو معمر سے روایت أَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی ۔ وہ کہتے تھے: ہم نے * حضرت خباب سے وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز نَعَمْ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ قَالَ میں قرآن مجید ) پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ ہم نے کہا: آپ کو کیسے علم ہوتا ؟ تو انہوں نے بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ۔ اطرافه ٧٤٦، ٧٦٠، ٧٦١۔ کہا: حضور کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔ تشريح : مَنْ خَافَتِ الْقِرَأَةَ : خَافَتْ کے معنی ہیں: اخفی پوشیدہ رکھا۔ یعن دل میں پڑھا۔ ریش مبارک ہلنے سے مراد سے مراد یہ ہے کہ آپ کی زبان اور لب کو جنبش ہوتی تھی۔ اس سے آپ کے پڑھنے کی بابت استدلال کیا گیا ہے۔ مسئلہ قرآت مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے باب کا عنوان مَنْ سے قائم کیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور فقہاء کوفہ کے نزدیک پڑھنا ضروری نہیں ۔ (بداية المجتهد ) خاموشی کی حالت میں پڑھنے یا نہ پڑھنے دونوں کی نسبت احتمال ہو سکتا تھا۔ مگر روایت نمبرے کے لیے جس میں ریش مبارک ہلنے کا ذکر ہے؛ دوسرے احتمال کارڈ کرتی ہے۔ د فتح الباری مطبوعہ بولاق میں قُلْتُ کی بجائے الفاظ "قَالَ قَلْنَا ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۳۳۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ☆