صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 174
صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان يَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْ أَفْضَلِهِمْ وَكَرِهُوا أَنْ اپنے میں سب سے بہتر سمجھتے تھے اور انہوں نے پسند يَوْمَهُمْ غَيْرُهُ فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى الله نہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اور ان کا امام ہو۔جب نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوْهُ الْخَبَرَ فَقَالَ يَا ﷺ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو اس فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ واقعہ کی خبر دی۔آپ نے فرمایا: اے فلاں ! جو بات أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُوْمٍ هَذِهِ تمہارے ساتھی تم سے کہتے ہیں ،تمہیں اس فعل سے السُّوْرَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّهَا کون سی بات روکتی ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تم نے یہ فَقَالَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ۔سورۃ ہر رکعت میں لازم کر لی ہے؟ اُس نے کہا: یہ سورۃ مجھے بہت پیاری ہے۔آپ نے فرمایا: اس کی محبت نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا۔:٧٧٥ حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا :۷۷۵ آدم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرہ سے روایت ہے، کہا: أَبَا وَائِل قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْن میں نے ابووائل سے سنا۔وہ کہتے تھے: ایک آدمی مَسْعُوْدٍ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ حضرت (عبداللہ ) بن مسعودؓ کے پاس آیا۔اس نے کہا: فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ هَذَا كَهَذِ الشَّعْرِ لَقَدْ میں نے آج رات ایک رکعت میں ساری مفصل پڑھی عَرَفْتُ النَّطَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى ہے۔حضرت عبداللہ نے کہا: جلدی جلدی جیسے شعر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ پڑھے جاتے ہیں۔میں وہ ہم مشابہ سورتیں جانتا ہوں عِشْرِيْنَ سُوْرَةٌ مِّنَ الْمُفَصَّلِ سُوْرَتَيْن جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے۔پھر حضرت عبداللہ نے مفصل کی ہیں سورتوں کا ذکر کیا۔فِي كُلِّ رَكْعَةِ۔اطرافه ٤٩٩٦ ، ١٥٠٤٣ تشریح: ہر رکعت میں دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔اَلْجَمْعُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ : اس باب میں چار مسئلے بیان کئے گئے ہیں۔پہلا مسئلہ ایک رکعت میں دوسورتیں پڑھنے سے متعلق ہیں۔اس سلسلہ میں ایک حوالہ حضرت انس کا دیا گیا ہے۔( نمبر ہ ے ے م ) اور دوسرا حوالہ حضرت ابن مسعودؓ کا۔( نمبر ۷۷۵) دوسرا مسئلہ سورۃ کی آخری آیتیں پڑھنے سے متعلق ہے۔اس بارہ میں