صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 2 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 2

تاری- جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِيْنَ کہتے تھے : مسلمان جب مدینہ میں آئے تو اکٹھے ہوا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ کرتے تھے اور نماز کے وقت کا اندازہ کرلیا کرتے الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا فَتَكَلَّمُوْا يَوْمًا تھے۔اس کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی۔تو انہوں ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نے ایک دن اس سے متعلق بات چیت کی۔ان میں نَاقُوْسًا مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارَى وَقَالَ سے بعض نے کہا: عیسائیوں کے ناقوس کی طرح ایک ناقوس بنالو اور بعض نے کہا نہیں۔بلکہ یہودیوں کے ناقوس کی طرح۔اس پر حضرت عمر نے کہا: کیوں نہ تم کسی آدمی کو مقرر کر لو کہ (وہ جاکر ) نماز کے لئے بلائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال ! بَعْضُهُمْ بَلْ بُوْقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُوْنَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ اُٹھ نماز کے لئے بلاؤ۔بَدْءُ الْأَذَانِ : بعض روایتیں ایسی ہیں جو اذان کی ابتداء یکی زندگی کے ساتھ وابستہ کرتی ہیں۔مگر وہ تشریح: بہت کمزور ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۰۴) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی مدنی آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دومستند روایتوں سے وہ کمزور روایتیں رڈ کر دی ہیں۔کسی کی آیت میں نماز کے لئے بلانے کا ذکر نہیں، بلکہ مدنی آیتوں میں ہے۔روایت نمبر ۶۰۴۶۰۳ سے واضح ہوتا ہے کہ مدینہ میں لوگ اس بات کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح اطلاع عام کے لئے گھنٹہ یا ناقوس بجایا جائے اور پہلے وہ انداز و وقت پر ہی مسجد میں اکٹھے ہوا کرتے تھے۔اس کے بعد اذان مقرر کی گئی۔یہ زمانہ ایک اور دو ہجری کے درمیان معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ سورہ جمعہ جس میں اذان دیئے جانے کا ذکر ہے؛ ۲ھ میں نازل ہوئی تھی اور حضرت انس بن مالک اس مشورہ کے وقت موجود تھے۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کے بعد پہلے سال میں ہی حاضر ہو گئے تھے۔الاصابه تحت ذکر انس بن مالک (اسد الغابه تحت ذکر انس بن مالک) روایت نمبر ۶۰۳ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کے مشورے پر حضرت بلال کو فورا حکم دیا کہ وہ نماز کے لئے لوگوں کو بلائیں۔مگر ایسا نہیں۔عرب لوگ حذف و اختصار کے عادی ہیں۔اس کی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔( روایت نمبر ۴۲۸) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے وہ تمام روایتیں نظر انداز کر دی ہیں۔جن میں حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمر کو خواب میں طریقہ اذان دکھلائے جانے کا ذکر ہے۔اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ وہ روایتیں ان کی شرائگا کے مطابق نہیں اور دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک اصل بنائے اذان وحی الہی ہے نہ کسی شخص کی خواب۔دوسروں کی خواہیں بطور ایک تائید کے ہوسکتی ہیں۔مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا تھا وہ وحی الہی کے مطابق