صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 172
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۷۲ ١٠ - كتاب الأذان اور پکار کر بھی بہت اونچی آواز نہ ہو، صبیح بھی اور شام بھی۔قواعد علم المعانی کی رو سے دُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ كَا تعلق بِالْعَدُةِ والاصال کے ساتھ ہے اور اس فقرے کا تقابل الفاظ فی نفسک سے ہے۔یعنی مغرب، عشاء اور فجر میں ذکر الہی بلند آواز سے بھی ہو اور جملہ وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِی نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً کا تعلق ہر نماز کے ساتھ ہے۔یعنی تَضَرُّعًا وَخِيفَةً کا ایک عام حکم دے کر اس کے ساتھ مغرب وعشاء اور فجر کی نمازوں کی کچھ رکعتوں میں بلند آواز سے پڑھنے کی تخصیص فرمائی ہے۔یہ امر کہ دُونَ الْجَهْرِ سے بلند آواز سے پڑھنا مراد ہے، آیت وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَوتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا (بنی اسرائیل: 11) سے بھی ثابت ہے۔غرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اونچی آواز یا خاموشی سے پڑھنا اللہ تعالی کے صریح ارشاد کے مطابق تھا۔جیسا کہ حضرت ابن عباس کی روایت میں اس کی صراحت ہے اور ان آیات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آہستہ پڑھنے والی رکعت میں بھی پڑھا جائے۔وَلَا تُخَافِتْ بِھا کے معنی ہیں، اپنی نماز میں بالکل گنگ نہ ہو جاؤ۔خَفُوتًا کے معنی ہیں سکون، انقطاع کلام سکوت تام (لسان العرب زیر لفظ خفت ) لَا تُخَافِتْ بِهَا یعنی خاموشی میں بھی ذکر الہی منقطع نہ ہو۔بَاب ١٠٦ : الْجَمْعُ بَيْنَ السُّوْرَتَيْنِ فِي الرَّكْعَةِ ایک رکعت میں دو سورتوں کا پڑھنا وَالْقِرَاءَةُ بِالْخَوَاتِيْم وَبِسُورَةٍ قَبْلَ اور سورۃ کی آخری آیتیں پڑھنا۔ترتیب کے خلاف سُوْرَةٍ وَبِأَوَّلِ سُوْرَةٍ وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدِ پڑھنا۔اور سورۃ کی ابتدائی آیتیں پڑھنا اور عبداللہ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى الله بن سائب سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُوْنَ، فِي الصُّبْحِ صبح کی نماز میں سورۃ المؤمنون پڑھی۔یہاں تک کہ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوْسَى وَهَارُوْنَ أَوْ جب آپ حضرت موسی و حضرت ہارون کے ذکر تک ذِكْرُ عِيْسَى أَحَدَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَقَرَأَ پہنچے، یا حضرت عیسی کے ذکر تک تو آپ کو خفیف سی عِيْسَى أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَقَرَا تھانی ہوئی اور آپ نے رکوع کیا اور حضرت عمر نے عُمَرُ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى بِمِائَةِ پہلی رکعت میں سورۃ بقرہ کی ایک سو میں آیتیں وَعِشْرِيْنَ آيَةً مِنَ الْبَقَرَةِ وَفِي الثَّانِيَةِ پڑھیں اور دوسری رکعت میں مثانی میں سے ایک بِسُوْرَةٍ مِنَ الْمَثَانِي وَقَرَأَ الْأَحْنَفُ سورۃ پڑھی اور احنف نے پہلی رکعت میں سورۃ کہف بِالْكَهْفِ فِي الْأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ پڑھی اور دوسری میں سورۃ یوسف یا سورۃ یونس اور بِيُوْسُفَ أَوْ يُونُسَ وَذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے