صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 171
صحيح البخاری جلد ۲ 121 ١٠ - كتاب الأذان ٧٧٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۷۷۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل إِسْمَاعِيْلُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ایوب نے ہمیں عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، ہعکرمہ نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا أُمِرَ وَسَكَتَ فِيْمَا سے روایت کی۔وہ کہتے تھے : نبی ﷺ کو جس ( نماز ) أُمِرَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا (مریم: ٦٥) میں (پڑھنے کا حکم ہوا اس میں آپ نے پڑھا اور ) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللَّهِ أُسْوَةٌ جس میں ( خاموش رہنے کا حکم ہوا، اس میں آپ خاموش رہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور یقیناً حَسَنَةٌ۔(الاحزاب: ۲۲) تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اچھا نمونہ ہے۔تشریح: الْجَهْرُ بِقِرَأَةِ صَلَاةِ الْفَجْرِ : حضرت ام سلمہ کی روایت کتاب الحج باب طواف النساء مع الرجال میں مفصل مذکور ہے۔( روایت نمبر ۱۶۱۹) وہاں ایک اور روایت (نمبر ۱۶۲۶) میں تصریح ہے کہ یہ صبح کی نماز بھی۔اس باب کی روایت (نمبر ۷۷۳) سے صرف اس قدر ثابت کرنا مقصود ہے کہ آپ صبح کی نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔وَهُوَ يُصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلوةَ الْفَجْرِ۔عُکاظ نخلہ اور طائف کے درمیان ایک مشہور مقام ہے۔یہاں میلہ لگا کرتا تھا۔طائف سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۶ صفحہ ۳۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میلے میں بغرض تبلیغ تشریف لے جایا کرتے تھے۔واقعہ مذکور یکی زندگی کا ہے۔سورہ جن ہجرت سے دو سال قبل نازل ہوئی اور اس وقت حضرت عبد اللہ بن عباس ایک سال کے تھے۔اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ابن عباس نے واقعہ مذکور کسی سے سن کر بیان کیا ہو۔حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ہ ے ے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اونچی آواز سے یا دل میں پڑھنا حکم الہی کے مطابق تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَاذْكُرُ رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِيْفَةً وَدُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْعَدُةِ وَالْأَصَالِ وَلَاتَكُنْ مِنَ الْعَافِلِينَ (الاعراف: ۲۰۲) { اور تو اپنے رب کو اپنے دل میں کبھی گڑ گڑاتے ہوئے اور کبھی ڈرتے ڈرتے اور بغیر اونچی آواز کیے صبحوں اور شاموں کے وقت یاد کیا کر اور غافلوں میں سے نہ ہو۔اور فرماتا ہے۔وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَوتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَالِكَ سَبِيلًا (بنی اسرائیل: 111) { اور اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز میں پڑھا اور نہ اسے بہت دھیما کر۔اور ان کے درمیان کی راہ اختیار کر۔}م ان دونوں آیتوں کو پہلو بہ پہلور کھنے سے دُونَ الْجَھر کا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔جھڑ کے معنے ہیں ؛ آواز خوب بلند کرنا۔بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِي أَى شَدِيدٍ عَالِ (لسان العرب تحت لفظ جهر ) یعنی بہت بلند آواز۔دُونَ الْجَهْرِ کے معنی ہوئے بلند آواز سے کم یعنی درمیانی آواز۔اصال کے معنی ہیں اوقات شام یعنی مغرب و عشاء۔اس لئے پہلی آیت کے یہ معنی ہیں: اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کر ؛ عاجزی اور خوف سے