صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 169
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۶۹ ١٠ - كتاب الأذان ۷۷۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۷۷۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : اسماعیل إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابن جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءً أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا جریج نے ہمیں بتایا، کہا: عطاء نے مجھے بتایا کہ انہوں هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ فِي كُلِّ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے صَلَاةٍ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى تھے : ہر نماز میں قرآن پڑھا جائے۔رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ہمیں سنایا ، ہم نے وہ تم کو عَنَّا أَحْفَيْنَا عَنْكُمْ وَإِنْ لَّمْ تَزِدْ عَلَى أُمّ بنایا اور جو آپ نے ہم سے نہیں فرمایا، ہم نے تم سے الْقُرْآنِ أَجْزَات وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ نہیں کہا۔اگر تم ام القرآن (سورہ فاتحہ ) سے زائد نہ پڑھو تو وہی کافی ہے اور اگر زائد پڑھو تو بہتر ہے۔۔باب ١٠٥: الْجَهْرُ بِقِرَاءَةِ صَلَاةِ الْفَجْرِ نماز فجر میں بلند آواز سے قرآت کرنا وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ طُفْتُ وَرَاءَ النَّاسِ اور حضرت ام سلمہ کہتی تھیں : میں نے لوگوں کے پرے وَالنَّبِيُّ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ بِالطُّوْر۔ہوکر ( بیت اللہ کا ) طواف کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور (اس وقت ) سورہ طور پڑھ رہے تھے۔۷۷۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۷۷۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوبشر سے، ابو بشر نے جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ علیه و وسلم اپنے صحابہ کے ایک گروہ سمیت عکاظ منڈی وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ کا قصد کرتے ہوئے چل پڑے جبکہ آسمان کی خبر اور إِلَى سُوقِ عُكَاظَ وَقَدْ حِيْلَ بَيْنَ شیطانوں کے درمیان روک ڈال دی گئی تھی اور ان پر الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ شعلے چھوڑ دیئے گئے تھے۔یہ شیطان اپنی قوم کی