صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 168 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 168

صحيح البخاری جلد ۲ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنِّي بِكَ۔اطرافه ٧٥٥، ٧٥٨ ١٠ - كتاب الأذان نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔آپ کے متعلق میرا یہی خیال تھا یا کہا: آپ پر میرا یہی گمان تھا۔بَابِ ١٠٤: الْقِرَاءَةُ فِي الْفَجْرِ صبح کی نماز میں قرآت وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَرَأَ النَّبِيُّ الله بالطُّور۔اور حضرت ام سلمہ کہتی تھیں نبی ﷺ نے سورہ طور پڑھی۔۷۷۱: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا اے آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ قَالَ نے بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ سیار بن سلامہ نے دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ ہمیں بتایا، کہا: میں اور میرے والد حضرت ابو برزہ الْأَسْلَمِي فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ اسلمی کے پاس گئے اور ہم نے ان سے نمازوں کے فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اوقات پوچھے تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ حِيْنَ تَزُولُ الشَّمْسُ ظہر سورج ڈھلنے پر پڑھا کرتے تھے اور نماز عصر ایسے وَالْعَصْرَ وَيَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى وقت پڑھتے کہ آدمی ( نماز پڑھ کر ) شہر کے آخری حصہ میں واپس چلا جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا اور الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيْتُ مَا مغرب کا وقت جو انہوں نے بتایا تھا میں بھول گیا اور قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيْرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثَ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ آپ عشاء کے لئے ایک تہائی رات تک دیر کرنے قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ جَلِيْسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ۔میں پرواہ نہ کرتے۔اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہ فرماتے اور صبح کی نماز ( ایسے وقت ) پڑھتے کہ آدمی ( نماز سے فارغ ہو کر اپنے پاس بیٹھنے والوں کو پہچان لیتا اور صبح کی دونوں رکعتوں إِحْدَاهُمَا مَا بَيْنَ السِّرِّيْنَ إِلَى الْمِائَةِ۔میں یا ایک رکعت میں ساتھ آئیتوں سے لے کر سو آیات تک پڑھا کرتے تھے۔اطرافه ٥٤١ ٥٤٧، ٥٦٨ ٥٩٩